انوارالعلوم (جلد 21) — Page 471
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۷۱ اسلام اور ملکیت زمین قابضوں سے چھین لینا کوئی گناہ کی بات نہیں بلکہ یہ عین انصاف ہے پس آپ یہ زمینیں لوگوں سے چھین کر اُن کے اصل مالکوں کو واپس کر دیں۔اس مشورے کو حضرت عمر بن عبد العزیز نے قبول کیا اور وہ تمام زمینیں جو مغصو بہ زمینیں تھیں یعنی دوسروں کی مملوکہ زمینوں کو اُن سے چھین کر اوروں کے حوالے کیا گیا تھا اصل مالکوں کو واپس کر دیں۔پس اس حوالہ سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ حکومت لوگوں کی ضرورت سے زیادہ زمینیں چھین کر دوسرے لوگوں میں تقسیم کر سکتی ہے بلکہ اس حوالہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر لوگوں کی زمینیں چھین کر حکومت نے دوسرے لوگوں میں تقسیم کر دی ہوں تو بعد میں آنے والی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ پھر اُن کے قابضوں سے زمین چھین کر اُن کے اصل مالکوں کو زمین لوٹا دے۔پس یہ حوالہ تو کی زمینداری کے مخالف لوگوں کے منشاء کے اُلٹ ہے۔سندھ گورنمنٹ کی زمیندارہ کمیٹی کی اقلیت کی رپورٹ میں مولوی عبید اللہ صاحب سندھی کا بھی ایک حوالہ پیش کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے تابع ہیں اور امام صاحب نے زمین کو مقاطعہ پر دینا نا جائز قرار دیا ہے بلکہ اتنی ہی زمین اپنے پاس رکھنے کی تج اجازت دی ہے جتنی کوئی خود کاشت کر سکتا ہے اس لئے موجودہ طریق زمینداری کا نا جائز ہے۔مولوی عبید اللہ صاحب سندھی ایک خدا ترس انسان تھے اور سادہ مزاج تھے۔میرے وہ بچپن سے واقف تھے۔جماعت احمدیہ کے پہلے امام کے زمانہ میں وہ قادیان بھی آیا کرتے تھے اور باوجود اس کے کہ میں اُس وقت ایک طالب علم کی حیثیت رکھتا تھا میرا بہت ادب کرتے تھے۔بعد میں بھی اُن کے ساتھ تعلقات قائم رہے۔چنانچہ میں دیو بند میں بھی جا کر اُن سے ملا تھا۔کبھی کبھار پیغام وسلام بھی آتا جاتا رہتا تھا اس لئے میرے دل میں اُن کا بہت ادب ہے۔میں اُن کو منتصنع آدمی نہیں سمجھتا تھا لیکن اُن کو جاننے والے جانتے ہیں کہ وہ شدت سے کمیونسٹ خیالات سے متاثر تھے۔ہجرت کی تحریک کے موقع پر وہ ہندوستان سے نکلے۔رشیا میں بڑے بڑے کمیونسٹ لوگوں سے اُن کے تعلقات رہے لیکن پھر بگاڑ پیدا ہو گیا اور وہاں سے آگئے لیکن می کمیونسٹ خیالات نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا بوجہ کمیونسٹوں سے بگاڑ کے وہ ظاہراً کمیونسٹ نہیں کی ہے تھے مگر خیالات پر وہی رنگ تھا۔حجاز میں رہتے ہوئے بھی جور پورٹیں آتی تھیں وہ یہی تھیں