انوارالعلوم (جلد 21) — Page 470
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۷۰ اسلام اور ملکیت زمین تیسری دلیل اس مسئلہ کے متعلق بعض لوگ یہ پیش کیا کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے بڑے بڑے زمینداروں سے اُن کی زمینیں چھین لیں اور لوگوں میں تقسیم کر دیں۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ حوالہ بھی قطعی طور پر غلط اور خلاف واقعہ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یزید کے زمانہ سے بنوامیہ میں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ وہ ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور خلافت کی قیود اُن پر عائد نہیں۔اُن کا نام خلیفہ تھا لیکن عمل جابر بادشاہوں والے تھے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ میرے بعد خلافت ہوگی اور خلافت کے بعد مُلكًا عَاضًا ہو گا یعنی ظالم بادشاہتیں ہوں گی۔پس یہ لوگ اپنے لئے وہ سب کچھ جائز تھی سمجھتے تھے جو قیصر و کسری اپنے لئے جائز سمجھتے تھے اور اُن کا خیال تھا کہ تمام زمین حکومت کی ہے اور حکومت اُن کے نزدیک بادشاہ کا مترادف لفظ تھا۔پس اُن کے خیال کے مطابق تمام زمین بادشاہ کی تھی اس لئے جب وہ اپنے کسی رشتہ دار یا عزیز کو خوش کرنا چاہتے تھے تو لوگوں کی زمینیں چھین کر اُن کو دے دیتے تھے جیسے جابر بادشاہ کیا ہی کرتے ہیں۔اب بھی کشمیر کا راجہ اسی طرح کیا کرتا تھا اور شاید اور راجے بھی ہندوستان کے اسی طرح کرتے ہوں۔جب حضرت عمر بن عبد العزیز کے ہاتھ میں حکومت آئی تو چونکہ وہ ایک خدا ترس انسان تھے اور اسلام کے احکام کو اُن کی اصلی صورت میں قائم کرنے کی کوشش کرتے تھے ، جن لوگوں کی زمینیں چھینی گئی تھیں اُنہوں نے اُن کے پاس درخواستیں بھجوانی شروع کیں کہ ہماری زمینیں ہم کو واپس دلائی جائیں کیونکہ حکومت کو کوئی اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ جبر اہم سے زمینیں چھین کر دوسرے لوگوں کو دے دیتی۔جب یہ درخواستیں کثرت سے آپ کے پاس آئیں تو جیسا کہ میں باب نمبر 9 میں یہ روایت درج کر آیا ہوں حضرت عمر بن عبد العزیز نے اپنے بیٹے عبدالملک سے جو ایک بہت بڑے عالم اور بڑے خدا ترس تھے مشورہ لیا کہ میں اس بارہ میں کیا کروں؟ ایک طرف یہ لوگ ہیں جو اپنی زمینیں واپس مانگتے ہیں اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہیں پہلے بادشاہوں نے زمینیں عطا کر دیں تھیں اور وہ اپنے آپ کو اُن کا جائز مالک سمجھتے ہیں۔عبدالملک نے اپنے والد کو مشورہ دیا کہ چونکہ یہ زمین لوگوں سے چھین کر اُن کو دی گئی تھی اس لئے یہ مخصو بہ زمین ہے اور مغصو بہ زمین کا کوئی شخص مالک نہیں ہو سکتا۔نہ حکومت اور نہ غیر۔پس منصو بہ زمین کا موجودہ