انوارالعلوم (جلد 21) — Page 455
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۵۵ اسلام اور ملکیت زمین کے متعلق اس قسم کی بحث اُٹھانے کا سوال ہی پیدا نہ ہو سکا تھا تو یہ عذر بھی درست نہیں ہوگا اس لئے کہ خودان معترضین نے تسلیم کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لوگوں کے پاس ایسی جائدادیں موجود تھیں جو ان کو کا فرماں باپ کی طرف سے ورثہ میں ملی تھیں مگر جن کو وہ کچ اکیلے کا شت نہیں کر سکتے تھے اور وہ زمینیں انہیں دوسرے لوگوں کو کاشت پر دینی پڑتی تھیں اور یہ لوگ مدینہ منورہ کے رہنے والے انصار تھے۔ان معترضین نے خود وہ حدیثیں نقل کی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مدینہ میں رہنے والے انصار اپنی ساری زمینیں خود کاشت نہیں کر سکتے تھے اور وہ دوسروں کو زمین کاشت پر دے دیا کرتے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے انہیں نہیں منع فرمایا۔اس سوال کو الگ رکھ کے کہ آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع کیا یا نہیں کیا ؟ یا اگر منع کیا تو کس بات سے منع کیا۔(اس امر پر میں بحث آگے چل کر کروں گا ) ان احادیث سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ مدینہ کے بعض انصار کے پاس اتنی زیادہ زمینیں تھیں کہ وہ خود اُن کو کاشت نہیں کر سکتے تھے اور دوسروں کو کاشت کے لئے دینے پر مجبور تھے۔اور جب یہ ثابت ہو گیا تو پھر یہ دیکھنا پڑے گا کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ان لوگوں سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی زمین کے متعلق ثابت کریں کہ ان کے باپ دادوں کو وہ زمین کس جائز ذریعہ سے ملی تھی ورنہ وہ زمین سرکاری زمین سمجھی جائے گی اور بحق سرکا رضبط ہو کر ان کے پاس اتنی ہی زمین رہنے دی جائے گی جس کی وہ خود کاشت کر سکیں باقی دوسرے لوگوں میں تقسیم کر دی جائے گی۔لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔جس سے معلوم ہوا کہ اسلام سے پہلے کی حاصل کردہ جائدادوں کی ملکیت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم فرمایا ہے۔دوسری دلیل اس کی تائید میں امام نووی کا فیصلہ ہے وہ بھی میں نویں باب میں درج کر آیا ہوں۔اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مصر کے بادشاہ بیبرس (BAYBARS) نے اپنے زمانہ کی زمینوں کو اسی بناء پر ضبط کرنا چاہا کہ لوگ ثابت کریں کہ ان کے باپ دادا کو وہ زمینیں جائزہ ذرائع سے حاصل ہوئی تھیں ورنہ ان کی زمینیں ضبط کی جائیں گی۔اس پر علامہ نووی نے اُس کے خلاف احتجاج کیا اور ثابت کیا کہ تمام علمائے اسلام اس بات پر متفق ہیں کہ جو شخص جس جائداد پر قابض ہے وہ اُس کا مالک سمجھا جائے گا سوائے اِس کے کہ کوئی دوسرا مدعی اُس پر نالش