انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 447

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۴۷ اسلام اور ملکیت زمین زیادہ کمائے جس حد تک کہ زمیندار کی آمدن کو محدود کیا جائے اور نہ کارخانہ داروں اور صناعوں کوایسی اجازت ہوسکتی ہے کیونکہ قرآن کریم میں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں وہ کھیتی کے نہیں بلکہ زمین اور اس کی متعلقہ تمام اشیاء کے ہیں جس میں سونا، چاندی، روپیہ، اور سکہ وغیرہ سب شامل ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جائداد کے خالی پڑا رہنے کے لئے قرآن کریم میں کوئی نص موجود نہیں صرف علماء نے قیاس کیا ہے اور روپیہ، چاندی اور سونے کے جمع نہ رکھنے کے متعلق قرآن کریم میں نص موجود ہے۔روپیہ سکہ، سونا اور چاندی کے جمع رکھنے کو اس لئے اہمیت دی گئی ہے کہ روپیہ سکہ ، چاندی اور سونا جمع رکھا جائے تو اس سے دوسرے لوگ کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے لیکن زمین اگر پڑی رہے اور اس کو استعمال میں نہ لایا جائے تو اس میں خودر و جھاڑیاں اور گھانس وغیرہ اُگ کر کچھ نہ کچھ فائدہ دنیا کو پہنچا دیتا ہے اس لئے شریعت نے روپیہ سکہ چاندی کی اور سونے کے جمع رکھنے کو زیادہ خطرناک جرم قرار دیا ہے اور اس کے متعلق نص اُتاری ہے لیکن زمین کا بے فائدہ پڑے رہنا چونکہ کم جرم ہے اس لئے اس کے متعلق کوئی نص نہیں اُتاری۔زمین کو مال کے مطابق قرار دینے کی سند مندرجہ ذیل ہے:۔حضرت امام یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ الارض عندى بمنزلة المال ۱۸ یعنی زمین کے متعلق احکام میرے نزدیک وہی ہیں جو مال کے متعلق ہیں۔یعنی جس طرح مال تجارت پر لگایا جا سکتا ہے یا صنعت و حرفت پر لگایا جاسکتا ہے اسی طرح زمین بھی مقاطعہ یا بٹائی وغیرہ پر دی جاسکتی ہے۔امام محمد ابن سیرین جو تابعی اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے داماد تھے اور بہت بڑے روحانی اور ظاہری عالم سمجھے جاتے تھے فرماتے ہیں۔الارض عندى مثل مال المضاربة ٦٩ یعنی میرے نزدیک زمین کے احکام بھی ویسے ہی ہیں جیسا کہ تجارت پر لگائے جانے والے مال کے۔امام ابن قیم تحریر فرماتے ہیں کہ زمین کے متعلق میرا نظریہ یہی ہے کہ ہو نظیر دفع مال الى من يتجر فيه لجزء من الربح " یعنی زمین کی حیثیت میرے نزدیک وہی ہے جیسا کہ اُس مال کی جسے کوئی شخص کسی دوسرے آدمی کے اس لئے حوالے کر دے کہ وہ اُس کے ساتھ