انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 425

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۲۵ اسلام اور ملکیت زمین نہیں ایک مسلمان کی حیثیت سے جاگیردار کو چاہیے کہ حکومت اگر زور بھی دے کہ تو یہ رقم اپنے پاس رکھ لے تو وہ کہے کہ میں یہ رقم رکھنے کے لئے ہر گز تیار نہیں۔یہ تو میرے ایمان کا دیوالہ نکالنے والی بات ہے ، یہ تو مجھے کا فروں میں شامل کرنے والی رقم ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی جائدادیں صحابہ کو ہبہ کی تھیں اُن سب کے اوپر آپ نے زکوۃ کو قائم رکھا تھا۔چنانچہ سنن ابوداؤد میں آتا ہے۔صلى الله عن بشير بن يسار عن رجال من اصحاب النبي علم ادركهم يذكرون عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حين ظهر على خيبر قسمها على ستة وثلاثين سهما - جمع كل سهم مائة سهم فجعل ذالك كله للمسلمين فكان في ذالک النصف سهام المسلمين وسهم رسول الله صلى الله عليه وسلم معها وجعل النصف الاخر لمن ينزل به من الوفود والامور و نوائب الناس ۱۳۳ یعنی بشیر بن بیسار نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے صحابہ سے جن سے اُن کو ملاقات کا موقع ملا ہے یہ روایت سنی ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر فتح پائی تو آپ نے خیبر کی ساری زمین چھتیں حصوں میں تقسیم کر دی۔ہر حصہ ایک سو حصص کا تھا۔گویا کل تین ہزار چھ سو حصہ مقرر کیا گیا۔ان حصوں میں سے نصف یعنی اٹھارہ سو حصے تو آپ نے مسلمانوں میں تقسیم کر دیئے جن میں خود آپ کا بھی حصہ شامل تھا اور باقی نصف آپ نے اس بات کے لئے محفوظ کر دیا کہ غریبوں کی مشکلات اور حکومت کی ضروریات پر اس کی آمد خرچ ہو۔اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی نصف زمین صحابہ کی میں بانٹ دی تھی۔اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ کیا اس نصف زمین پر سے عشر وصول ہوتا تھا یا نہیں ؟ سو اس کے متعلق ابو داؤد میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ کو خیبر کی طرف بھیجا کرتے تھے اور وہ وہاں جا کر کھجوروں کے درختوں کے پھلوں کی قیمت کا اندازہ لگاتے تھے پیشتر اس کے کہ لوگ اُس میں سے کچھ کھائیں۔پھر وہ یہودیوں کو موقع دیا کرتے تھے کہ خواہ وہ اس اندازہ کو قبول کر کے اپنا حق مزارعہ رکھ کر ان کو دے دیں یا وہ اس اندازہ کو رڈ کر دیں تو ابن رواحہ اپنے اندازہ کے مطابق ان کو