انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 421

انوار العلوم جلد ۲۱ پانچواں باب ۴۲۱ کیا جا گیر داری اسلام میں جائز ہے؟ اسلام اور ملکیت زمین میں نے اوپر کی فصل میں یہ بات بیان کی ہے کہ زمینوں کی ملکیت جائز ذرائع سے افراد کے لئے جائز ہے۔یہاں شاید کسی کو یہ دھوکا لگے کہ اس اوپر کی فصل کے ماتحت جا گیر داری بھی جائز ہے۔سو یادر ہے یہ درست نہیں۔جاگیر داری اور زمینداری میں ایک فرق ہوتا ہے۔زمینداری اسے کہتے ہیں کہ ایک شخص زمین کا مالک ہوتا ہے لیکن حکومت یا پبلک کے حقوق کو پوری طرح ادا کرتا ہے اور جاگیرداری اِسے کہتے ہیں کہ حکومت یا پبلک کا حق کلّی طور پر یا جزوی طور پر اُسے معاف ہو جاتا ہے۔مثلاً زمیندار با وجود زمین کا مالک ہونے کے حکومت کی طرف سے مقرر کردہ معاملہ یا آبیانہ جسے اسلامی اصطلاح میں عشر یا خراج یا زکوة کہتے ہیں ادا کرتا رہتا ہے لیکن جاگیر دار کو تو کلی طور پر خراج یا عشر یا زکوۃ معاف ہوتی ہے یا اس کا ایک حصہ معاف ہوتا ہے اور وہ گویا ملک کی ذمہ داریوں کے ادا کرنے میں دوسری رعایا کے ساتھ شریک نہیں ہوتا۔ملک کے امن ، ملک کے عدل و انصاف، مُلک کی حفاظت ، ملک کے دفاع اور ملک کی حکومت کے چلانے کے لئے ایک غریب سے غریب آدمی کچھ نہ کچھ زکوۃ یا ٹیکس دے رہا ہوتا ہے لیکن یہ شخص ان تمام انتظامات سے فائدہ تو اُٹھا رہا ہوتا ہے لیکن ان کا بوجھ اُٹھانے میں شریک نہیں ہوتا۔یہ چیز قطعی طور پر حرام ہے اور کسی حکومت کو ز کوۃ یا عشر کے معاف کر دینے کا حق نہیں حتی کہ بانی اسلام بھی ایسا نہیں کر سکتے تھے کیونکہ یہ حق خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ ہے اور خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ حق کو کوئی انسان معاف نہیں کر سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سب سے پہلا معاملہ یہی مسلمانوں کو پیش آیا۔آپ کی وفات کے بعد عرب کے قبائل نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ یہ حق صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک تھا اس کے بعد نہیں۔صحابہؓ نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زکوۃ وصول نہیں کی جائے گی تو حکومت چلے گی