انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 416

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۱۶ اسلام اور ملکیت زمین لمواشيهم ونوع ليس من مرافقها وهو مسمى بالموات گل یعنی زمین در حقیقت دو قسم کی ہوتی ہے ایک مملوکہ اور ایک غیر مملوکہ مملوکہ بھی آگے دو قسم کی ہوتی ہے آباد اور غیر آباد۔اور غیر مملوکہ بھی دوستم کی ہوتی ہے ایک وہ جو کہ شہروں کے پاس ہوا اور شہری لوگ اُس سے فائدہ اُٹھاتے ہوں یا اُس سے لکڑیاں لیتے ہوں یا اُن کے جانور اُس سے فائدہ اُٹھاتے ہوں اور ایک غیر مملو کہ وہ ہوتی ہے جو شہروں سے دُور ہوتی ہے اور لوگ اُس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے اور اُسی کوموات کہتے ہیں۔امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ الموات كل ارض اذا وقف على ادناها من العامر مناد باعلى صوته لم يسمع اقرب الناس اليها في العامر ۲۸ یعنی موات وہ زمین ہے کہ اُس کا جو حصہ شہر سے قریب ترین ہو اُس پر کھڑے ہو کر اگر کوئی اونچی آواز والا آدمی نہایت بلند آواز سے بولے تو شہر میں سے جو حصہ اس جانب سب سے قریب ہے وہاں کے لوگ بھی اُس کی آواز نہ سن سکیں۔ان حوالوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ مملوکہ زمین تو کسی صورت میں بھی موات نہیں کہلاتی اور غیر مملوکہ زمین بھی اُسی وقت موات کہلاتی ہے جس پر قبضہ کر لینے کا افراد کو حق دیا گیا ہے یا لوگوں کی میں تقسیم کرنے کا حق دیا گیا ہے جبکہ وہ زمین شہروں سے اتنے فاصلہ پر ہو کہ شہر کی ضرورتوں کو اُس کے تقسیم کر دینے سے نقصان نہ پہنچتا ہو۔گو یا نفی علماء کے نزدیک افراد کا قبضہ کر لینا تو الگ رہا حکومت بھی ایسی زمین کو تقسیم نہیں کر سکتی جس کا آزاد چھوڑ نا کسی شہر یا قصبہ کیلئے ضروری ہو۔اور حضرت امام ابو حنیفہ کے نزدیک تو فرد کسی صورت میں بھی ایسی غیر مملوکہ اور سرکاری حج زمین پر بغیر حکومت کی اجازت کے قبضہ نہیں کر سکتا۔چنانچہ حضرت امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں۔لا يجوز احياء الارض الا باذن الامام لقوله عل الله ليس لاحد الا ماطابت به نفس امامه ۲۹ یعنی لاوارث اور غیر مملوکہ زمین پر قبضہ کرنا بھی بغیر حکومت کی اجازت کے جائز نہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی سرکاری چیز کا مالک نہیں ہوسکتا جب تک که امام خوشی سے اُس کو بخش نہ دے۔