انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 413

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۱۳ اسلام اور ملکیت زمین کھدائی نہیں کرنی پڑتی وہ بھی پبلک کی ملکیت ہوں گی گوحکومت ان کی منتظم اور نگران ہوگی مگر حکومت بھی اُن کانوں کے آس پاس رہنے والے لوگوں کی روزانہ ضرورتوں سے اُن کو محروم نہیں کر سکتی۔ہاں جتنا حصہ تجارتی ہوگا وہ حکومت کے قبضہ میں ہوگا۔اسی اصل کے ماتحت ہم یہ قانون نکالیں گے کہ اگر کوئی انسان ایسی فصل ہوئے جو صحت کے لئے مضر ہو یا اُس کے پھول اور کپڑے اُڑ کر ارد گرد کی فصلوں کو نقصان پہنچائیں اور اُن کی حیثیت کو ادنی بنادیں تو حکومت ایسے احکام جاری کر سکتی ہے جن کے رُو سے وہ لوگوں کو اس قسم کی فصل بونے سے روک دے۔مثلاً جس علاقہ میں عام طور پر امریکن کپاس ہوئی جاتی ہے اگر اُس علاقہ میں دیسی کپاس ہوئی ہے جائے تو اُس کی وجہ سے امریکن کپاس کی قسم کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور بعد میں اُس کے امتزاج ہے کی وجہ سے باقی لوگوں کی کپاس کی قیمتیں بھی گر جاتی ہیں۔ایسی صورت میں حکومت کو یقیناً اختیار حاصل ہے کہ وہ مندرجہ بالا حدیث اور آئمہ کے استدلال پر قیاس کرتے ہوئے حکم دے ھی دے کہ اس علاقہ میں فلاں چیز کا بونا چونکہ لوگوں کے لئے مضر ہے اس لئے اُس کو نہ بویا جائے۔لیکن حکومت یہ نہیں کہہ سکتی کہ چونکہ اس شخص کی ملکیت دوسرے لوگوں کے لئے مضر ہے اس لئے اس کو ملکیت سے محروم کر دیا جائے کیونکہ ملکیت اپنی ذات میں ضر ر نہیں پہنچاتی جس طرح کہ غلط ضرر کاشت اپنی جگہ میں دوسروں کو نقصان پہنچاتی ہے۔اس حد تک تو میں نے یہ بتایا ہے کہ مالک زمین کے حقوق کہاں تک محدود ہیں۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ زمین کے مالک کے حقوق کس حد تک قرآن کریم اور احادیث اور صحابہ ء کرام اور ائمہ عظام کے فتووں یا عمل سے ثابت ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ میں حضرت آدم علیہ السلام کی نسبت فرماتا ہے کہ ہم نے اُن کو کہا۔اُشكُن آنت وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ " اے آدم تو اور تیری بیوی دونوں اس باغ میں رہو۔اس آیت سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ انسان زمین کا مالک ہوسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آدم اور اُن کی بیوی کو ایک باغ کا مالک بنایا۔اور یہ ظاہر ہے کہ جس شخص کو کسی جگہ پر رہنے کا اختیار دیا جائے گا دوسروں کو اُس جگہ پر جانے کا اختیار باقی نہیں رہے گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک کافر اور ایک مؤمن کی گفتگو ان الفاظ میں بیان