انوارالعلوم (جلد 21) — Page 405
انوار العلوم جلد ۲۱ اُس کا مالک ہوگا۔۴۰۵ اسلام اور ملکیت زمین امام ابو حنیفہ صاحب اس بارہ میں یہ قید لگاتے ہیں کہ لا یجوز احياء الارض الا باذن الامام۔غیر مملوکہ یا غیر مزروعہ زمین (جس پر اس سے پہلے تاریخی زمانہ میں زراعت نہیں ہوئی) پر اُسی وقت دوسرے شخص کو قبضہ کرنے کی اجازت ہوسکتی ہے جب کہ امام اس کی اجازت دے ( یا اُن دنوں کی حکومت اس کی اجازت دے تب اس زمین پر قبضہ ہو سکتا ہے ) اوپر کی احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی شخص کو کسی دوسرے شخص کی زمین پر قبضہ کرنے کا حق نہیں۔اگر کسی شخص کے پاس زمین ہو اور وہ اسے زیر کاشت نہ لاتا ہو یا اور کسی کام میں نہ لاتا ہو یا حکومت کی زمین ہو جو اُفتادہ پڑی ہو تو اُس پر دوسرے لوگوں کو جن کے پاس زراعت کے لئے زمین نہ ہو قبضہ کرنے کا حق ہے بشرطیکہ حکومت کی طرف سے اس کی اجازت ہو ( یہ حضرت امام ابو حنیفہ کا استدلال ہے جو اُنہوں نے ایک اصولی حدیث سے کیا ہے اور عقل اس پر شاہد ہے کہ جس جگہ کوئی حکومت ہو اُس جگہ اُس کے قاعدہ کی پابندی لازمی ہے ورنہ فتنہ و فساد کا دروازہ کھل جاتا ہے ) اور یہی قانون زمین کے سوا دوسری اشیاء کے بارہ میں بھی ہے۔چنانچہ بخاری میں آتا ہے۔عن زيد بن خالد قال جاء رجل الى رسول الله الا الله فساله عن اللقطة فقال اعرف عفا صها ووكاءها ثم عرفها سنة فان جاء صاحبها و الا شانک بها قال فضالة الغنم؟ قال هي لك اولا خيک او للذئب قال فضالة الابل؟ قال مالك ولها معها سقاء ها وحذاوها ترد الماء وتاكل الشجر حتى يلقاهاربها - یعنی حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے عرض کیا کہ اگر مجھے راستہ میں کوئی گری پڑی چیز مل جائے تو اُس کے بارہ میں حضور کا کیا ارشاد ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اُس کی کے بٹوے کو اور اُس کے منہ باندھنے والے تسمہ کو اچھی طرح پہچان رکھ اور ایک سال تک لوگوں کی میں اعلان کر۔اگر اس عرصہ میں اُس کا مالک تجھے مل جائے تو تو وہ چیز اُس کے حوالہ کر اور اگر ی نہ ملے تو پھر اُس روپیہ کو تو جہاں چاہے خرچ کر لے۔اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! اگر کوئی