انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 396

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۹۶ اسلام اور ملکیت زمین اسلام ایک نا مکمل مذہب ہے بلکہ ناقص مذہب ہے جس نے آئندہ زمانوں کے مسائل کو تو کیا حل کرنا تھا اپنے زمانہ کے اہم مسائل کو بھی اس نے نہ حل کیا نہ چھیڑا ( نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ) اگر اسلام نے اس مسئلہ کے متعلق کوئی روشنی نہیں ڈالی تو بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ نے زمینوں کے متعلق کوئی نہ کوئی طریق عمل تو اختیار کیا ہوگا کیونکہ سلام کی حکومت میں زمیندار بستے تھے ، اور زمینداروں اور ان کے مزارعوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے تھے اور تصفیہ کے لئے وہ حکام کے سامنے پیش بھی ہوتے رہتے تھے۔اگر نَعُوذُ باللهِ اسلام نے کوئی تعلیم نہیں دی تھی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے کی کوئی عقلی فیصلہ اسلامی اصول کی روشنی میں اس بارہ میں ضرور کیا ہوگا۔اور اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا تو تھا تو وہ فیصلہ ہزاروں ہزار مسلمانوں کے عمل میں بھی آیا ہو گا۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی چونکہ زمین تھی آپ کے عمل میں بھی آیا ہو گا۔آپ کے خلفاء کے پاس بھی زمین تھی ان کے عمل میں بھی آیا ہو گا۔آپ کے صحابہ میں سے حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ، حضرت علی، حضرت زبیر اور بہت سے اکابر صحابہ کی زمینداریوں کا ثبوت حدیثوں اور تاریخوں سے ملتا ہے اور انصار تو قریباً سب کے سب زمیندار تھے ان لوگوں کیلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا لائحہ عمل پیش کیا تھا ؟ خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی خیبر کی فتح کے بعد زمین آگئی تھی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لئے کیا طریق عمل پسند فرمایا تھا ؟ اس سوال کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ہمارے لئے اتنا ہی کافی نہیں کہ ہم قرآن کریم کی بعض آیات کا غلط یا صحیح مفہوم نکال کر ایک قانون بنا دیں بلکہ ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ قرآن کریم کی اس آیت کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا معنی کئے اور اس پر کس شکل میں عمل کیا۔کیونکہ یہ مسئلہ صرف اعتقادی نہیں کہ اسے صرف اصولی احکام سے حل کی کیا جائے بلکہ عملی ہے جس کی تفصیلات پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عمل کیا اور دوسروں کی سے عمل کروایا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صاف طور پر فرماتا ہے۔أوليك الذين حدى الله يهدهُمُ اقتده کے یعنی تو ہمارے پہلے بھیجے ہوئے هَدَى اللَّهُ اقْتَدِهُ بزرگوں کے طریق پر عمل کر۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ جب تک