انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 380

انوار العلوم جلد ۲۱ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی لڑکی کا بچہ فوت ہو جایا کرتا تھا۔جب کئی بچے فوت ہو گئے تو اُس کی والدہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس دعا کے لئے آئیں۔آپ نے دعا کی اور فرمایا کوئی بات نہیں۔پھر ایک بچہ پیدا ہوا اور فوت ہو گیا۔وہ پھر دعا کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔آپ نے دعا کی اور فرمایا گھبراؤ نہیں بچہ کمزور تھا خدا تعالیٰ اسے تندرست کر کے واپس بھیجے گا۔وہ واپس چلی گئیں پھر تیسرا بچہ پیدا ہوا اور مر گیا تو بیٹی نے والدہ سے کہا جلدی جاؤ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے دعا کراؤ۔اُنہوں نے جواب دیا کی میں جب گئی تھی تو آپ نے فرمایا تھا بچے وہاں تندرست ہونے جاتے ہیں اب جانے کی کیا تی ضرورت ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے انہیں بچے دیئے اور اب اُن کے بچوں کے بھی بچے ہیں۔پس میں مہاجرین سے کہتا ہوں کہ تم اپنی اُمنگوں اور امیدوں کو بڑھا ؤ اور یہ بات مت بھولو کہ خدا تعالیٰ نے تم سے ابھی بہت کچھ کام لینے ہیں جتنا پیج تم ڈالا کرتے ہو تمہیں اتنی ہی کھیتی ملتی ہے مگر میں خدا تعالیٰ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ تمہارا جو کچھ نقصان ہوا ہے ، اُس سے بہت زیادہ تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ملے گا۔“ ( الفضل ۲۶ / دسمبر ۱۹۶۱ء) حفاظت مرکز قادیان کے لیے چندہ کی اپیل اب میں قادیان کو لیتا ہوں۔قادیان ہمارا مقدس مرکز ہے جو اس وقت ہم سے کٹا ہوا ہے اور اس وجہ سے اس کی ذمہ داریوں کو ہم نے ہی ادا کرنا ہے۔میں نے جماعت میں تحریک کی تھی کہ جن احباب کے پاس جائدادیں ہیں وہ اُن کی قیمت کا ایک فیصدی حفاظت مرکز کے لئے بطور چندہ دیں اور جن کی جائدادیں نہیں وہ ایک ایک ماہ کی آمد دیں۔اس تحریک کے جواب میں جو وعدے آئے وہ تیرہ لاکھ روپیہ کے تھے لیکن جو وصولی ہوئی وہ صرف چھ سات لاکھ روپیہ کی ہے۔گویا چھ سات لاکھ روپیہا ایسا ہے جو ابھی واجب الادا ہے لیکن اب کسی دن آٹھ روپے اور کسی دن دس روپے اس مد میں وصول ہوتے ہیں اگر وصولی کی یہی رفتار رہی تو غالباً کسی نئے ما مور کے وقت تک بھی یہ رقم جمع نہیں ہوگی۔میں نہیں سمجھتا کہ ایسا کیوں ہے میں جب باہر جاتا ہوں تو میرے اردگر دا ایک جمگھٹا سا بندھ جاتا ہے اور لوگ پوچھتے ہیں کہ قادیان کب ملے گا ؟