انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 372

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۷۲ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی نے وسیع کر لیا ہے۔قادیان سے نکلنے سے پہلے ہماری جماعت جتنی معروف تھی اُس سے کئی گنا ہے زیادہ اب معروف ہے۔قادیان سے نکلنے سے پہلے جتنے لوگ اس کی طرف متوجہ تھے اُس سے بہت زیادہ لوگ اب توجہ کر رہے ہیں۔غرض قادیان سے نکلنے کے بعد ہمارے مشنوں میں یکدم بیداری پیدا ہوگئی ہے اور اب وہ جوان ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ہماری ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں اور مبلغ بننے کے لئے باہر سے لوگ آ رہے ہیں۔شروع میں مسٹر کنزے اور ایک دو چینی طالب علم آئے تھے اب رشید احمد (امریکن ٹو مسلم ) آئے ہیں ابھی ایک اور جرمن اور ایک امریکن خاتون دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہاں آنے والے ہیں اُن کی تعلیم کا انتظام ہمیں ی کرنا ہوگا۔اب اگر مرکز نہ ہو تو یہ کہاں تعلیم حاصل کریں گے۔قادیان میں ہمارے سکول تھے، جی لج تھا ، جامعہ احمدیہ تھا ، لڑکیوں کا سکول تھا ، کروڑوں کی جائدادیں تھیں، بارہ تیرہ مساجد تھیں، دفا تر تھے یہاں پر سب عمارتیں نئے سرے سے بنانی پڑیں گی۔پھر قادیان میں کارکنوں کےاپنے مکانات تھے اور یہاں وہ بھی بنانے پڑیں گے۔ان سب کیلئے روپیہ کی ضرورت ہے۔۱۹۴۷ء میں میں نے ایک لاکھ روپیہ کی تحریک کی تھی لیکن دو جلسوں پر اور عارضی رہائش کے لئے عمارتیں بنانے میں ہی بہت زیادہ روپیہ خرچ ہو گیا ہمارا اندازہ تھا کہ پندرہ ہزار میں سوائے چند کی عمارتوں کے کچی عمارتیں بن جائیں گی۔مسجد مبارک کے لئے تو دوستوں نے چندہ دیا ہے اور امید ہے کہ ایک دو ماہ کے اندراندر مسجد تیار ہو جائے گی۔پھر بڑی مسجد کے لئے چندہ کا اعلان کیا جائے گا اس کے بعد ہمیں سکولوں اور کالجوں کے لئے بھی چندہ کرنا پڑے گا۔سلسلہ کی مالی حالت یہ ہے کہ ہندوستانی جماعتوں کا چندہ جو دو لاکھ روپیہ تھا اب نہیں ملتا اور ادھر کام بڑھ گیا ہے۔میں نے یہ تجویز کی ہے کہ گورنمنٹ نے زمین کی جو واجبی قیمت تھی وہ تو لے لی ہے۔جب ہم یہاں بس جائیں گے تو کالجوں اور سکولوں کی وجہ سے لا زم لوگ یہاں مکان بنائیں گے اس لئے جو زیادہ قیمت مل سکے وہ ہمارا حق ہے اور ہمیں لینی چاہیے کیونکہ ہماری وجہ سے لوگ یہاں بسیں گے اور مکانات بنائیں گے۔پس میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ اس مصیبت کے وقت میں اس جگہ کی آبادی کے لئے جو سامان کرے گا اُسی روپیہ سے عمارتیں بن جائیں گی۔تین لاکھ پچاس ہزار کی زمین فروخت ہو چکی ہے اور اس سے عارضی مکانات بنائے