انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 368

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۶۸ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی ہیں اور یہاں کی رہائش دوسری جگہوں کی رہائش سے اچھی ہے۔لوگ کہیں گے کیا یہ ملکہ ہے؟ میں کہوں گا نہیں۔لوگ کہیں گے کیا یہ بیت المقدس ہے؟ میں کہوں گا نہیں۔لوگ کہیں گے کیا یہ مدینہ ہے؟ میں کہوں گا نہیں۔لوگ کہیں گے اچھا تو کیا یہ قادیان ہے؟ میں کہوں گا نہیں۔لوگ کہیں گے پھر یہ کیا ہے اور یہ گرد و غبار کی جگہ جو رہائش کے لئے بھی موزوں نظر نہیں آتی جو ہزاروں سال سے ویران پڑی تھی جس کے متعلق گورنمنٹ کے کاغذات میں بھی یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ کاشت کے ناقابل ہے یہ کس طرح مقدس ہو گئی اور اس کو برکت کہاں سے ملی ؟ میں کہوں گا یہ خدا تعالیٰ کے مقدسوں کی جائے پناہ ہے اور اس کو وہیں سے برکت ملی ہے جہاں سے باقی مقدس مقاموں اور بہت سے جانے نہ جانے مقامات کو برکت ملی ہے۔ایک عورت اور ایک بچہ آج سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال پہلے خدا تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے نکلے تھے اور ایک جگہ نے ان کو پناہ دی۔زمین نے انہیں پانی دے دیا۔اُس جگہ میں کیا رکھا تھا ؟ وہ بے آب و گیاہ جگہ تھی اور کوئی جانا پہچانا نبی ہمیں ایسا معلوم نہیں ہوتا جو وہاں رہ کر عبادتیں کیا کرتا ہولیکن خدا تعالیٰ نے جب دیکھا کہ اس زمین نے میرے پیاروں کو پناہ دی ہے تو اُس نے کہا میری رضا کی تلاش کرنے والی روحوں کو پناہ دینے والی جگہ تو بابرکت ہو جا اور وہ ی با برکت ہوگئی۔اُس جگہ کو برکتیں ملنے کی وجہ صرف اتنی تھی کہ اس نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کو پناہ دی اور جب اس نے پناہ دی تو خدا تعالیٰ نے عرش سے اسے دیکھ کر کہا کہ اے زمین ! تو نے میری رضا کی خاطر بھاگنے والوں کو پناہ دی ہے۔دنیا تجھے بیکار سمجھتی ہے، تو کسی کام کی نہیں تھی مگر تو نے وہ کام کیا جو کسی نے نہ کیا جو سر سبز و شاداب کھیتوں نے نہ کیا۔میں کی کہتا ہوں تو ہو جا با برکت۔جس ذات نے کن ۱۸ کہا اور سب چیزیں پیدا ہو گئیں اُسی ذات کی نے اُسے کہا تو بابرکت ہو جا اور وہ بابرکت ہو گئی۔وہ پناہ لینے والے بھی فوت ہو گئے اور ان پناہ لینے والوں کی اولا د بھی کچھ عرصہ بعد روزی کی تلاش میں اُس جگہ کو چھوڑ کر ملک میں پھیل گئی۔صدیوں بعد زمانہ محمدی کے قریب پھر ایک باہمت انسان انہیں مکہ میں جمع کر کے لایا لیکن وہ مجھ با برکت رہی تب بھی جب وہ آباد تھی اور وہ با برکت رہی تب بھی جب وہ ویران تھی۔وہ بابرکت تھی جب خدا تعالیٰ کا آخری اعلان وہاں سے سنایا گیا اور وہ بابرکت تھی جب کہ خدا تعالیٰ کا