انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 342

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۴۲ دنیا کے معزز ترین انسان محمد یہ وسلم ہیں ایک شخص نے کہ ( نَعُوذُ بِالله ) وہ ذلیل ترین وجود ہے مدینہ کا۔اور جانتے ہو وہ کون شخص تھا ؟ وہ اسی عبداللہ کا اپنا بیٹا تھا غیر اس کی بات بھول گئے ، رشتہ دار اس کی بات بھول گئے ، دوست اس کی بات بھول گئے ، دشمن اس کی بات بھول گئے لیکن اُس کا بیٹا اس بات کو نہیں بھولا اور بغیر اس واقعہ کے اسے اور کسی چیز کا خیال تک نہیں آیا۔جس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری مدینہ منورہ میں داخل ہو چکی اور اسلامی لشکر اندر داخل ہونے لگا تو وہ لڑکا اپنی سواری سے کو دکر گلی کے کنارے پر کھڑا ہو گیا اور جب اپنے باپ عبد اللہ بن اُبی کو دیکھا تو اُس نے تلوار نکال کر اپنے باپ سے کہا تمہیں یاد ہے تم نے وہاں کیا الفاظ کہے تھے ؟ تم نے کہا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کا سب سے زیادہ ذلیل انسان ہے اور تم سب سے معزز انسان ہو۔خدا کی قسم ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو معاف کر دیا لیکن میں تمہیں معاف نہیں کروں گا اور تمہیں اُس وقت تک مدینہ میں داخل نہیں ہونے دوں گا جب تک تم تین دفعہ میرے سامنے یہ اقرار نہ کرو کہ میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ معزز انسان ہیں۔باپ نے دیکھ لیا کہ آج اس بیٹے کی تلوار میرے پیٹ میں جائے بغیر نہیں رہے گی ، آج اس کی تلوار میرے دل کو چیرے بغیر نہیں رہے گی ، اس نے اپنے سارے ہم نشینوں اور ہم مجلسوں کے سامنے جن میں وہ اپنی بادشاہت کی لافیں مارا کرتا تھا اقرار کیا کہ ہاں میں مدینہ کا سب سے زیادہ ذلیل شخص ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ معزز انسان ہیں۔۵۔مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا اور میں نے کہا خدا کی رحمتیں ہوں عبد اللہ کے بیٹے پر کہ اُس نے اس کی طعنہ کو نہیں بھلایا اور تب تک اُس نے آرام نہیں کیا جب تک اپنے باپ کے منہ سے اُس نے یہ نہ کہلوالیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی سب سے زیادہ معزز وجود ہیں اور اس کا باپ کی سب سے زیادہ ذلیل آدمی ہے۔مگر خدا رحم کرے ہم پر بھی جن کے سامنے دنیا نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنی گالیاں دی ہیں کہ کسی ذلیل ترین انسان کو بھی وہ گالیاں نہیں دیتی گئیں، کسی کمینہ ترین انسان کو بھی وہ گالیاں نہیں دی گئیں، کسی شیطان کے مثیل انسان کو بھی وہ گالیاں نہیں دی گئیں مگر ہم آرام سے بیٹھے ہیں۔ہمارے دلوں میں یہ جوش پیدا نہیں ہوتا کہ ہم -