انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 339

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۳۹ دنیا کے معزز ترین انسان محمد یہ وسلم ہیں رہتے ہو اور ایک آواز پر اکٹھے ہو جاتے ہو یہ فطرت تمہاری ظاہر ہوگئی اور دنیا نے دیکھ لیا کہ کوئی تج طاقت تمہیں ہمیشہ کے لئے پراگندہ نہیں کر سکتی۔بے شک ابھی یہ ایک بیج ہے جو دکھائی دے رہا ئی ہے مگر یہ بیج بڑی برکت کی نشانی ہے، بڑی رحمت کی نشانی ہے اور آئندہ کے لئے بڑی امیدیں دلانے والی چیز ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ امر بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ یہ چیز اچھی بھی ہے ، بہتر بھی ہے بلکہ ہمارے لئے فخر کا موجب بھی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ہماری پیدا کردہ نہیں بلکہ ہمارے خدا ہی کی پیدا کردہ ہے اور ہم اس خوبی میں جو ہمارے اندرلوگوں کو نظر آتی ہے اپنے خدا ہی کا ہاتھ دیکھتے ہیں۔ایک خوبصورت حسینہ جس کی شادی کی جاتی ہے اُس کا خاوند اس کے نقش و نگار اور اُس کی کی زینت دیکھ کر اُس پر لٹو ہو جاتا ہے مگر اُسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس زینت کے پیچھے مشاطہ سے کا ہاتھ کام کر رہا ہے۔اگر وہ نہ ہوتی تو اُس کی بیوی بھی ایسی خوبصورت معلوم نہ ہوتی۔اور جہاں مشاطا ئیں نہیں ہوتیں وہاں گھر کی رشتہ دار عورتیں اُسے سجاتی ہیں۔ہم بھی ایک دلہن کی طرح نکھر کر دنیا کے سامنے آئے ہیں مگر ہمارے چہرے کا رنگ و روغن اور ہمارا نکھار بتا رہا ہے کہ یہ حسن ہمارا نہیں بلکہ ہمارے خدا یعنی ازلی مشاطہ کا بنایا ہوا حسن ہے اس لئے ہم اُسی کے حضور میں ادب کے ساتھ اپنا سر جھکاتے اور اُس سے کہتے ہیں اے مہربان آقا ! جس نے ہم کو انتشار کے بعد پھر جمع کیا ، جس نے پریشانی کے بعد ہمیں پھر امن کا راستہ دکھایا اور جس نے آئندہ کے لئے ہمیں بہت سی امیدیں دلائیں اگر تیرے علم میں ہمارے لئے کوئی اور ابتلاء بھی مقدر ہیں تو کی ہم تجھ سے امید رکھتے ہیں کہ تو پھر بھی ہم کو پراگندہ نہیں ہونے دے گا بلکہ اپنے خاص فضل اور مہربانی سے ہماری کمزوریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اور ہماری خطاؤں کو معاف فرماتے ہوئے پھر ہم کو اکٹھا کر دے گا۔پھر ہم کو جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائے گا اور اُس وقت تک ہمارے ارادوں کو متزلزل نہیں ہونے دے گا جب تک کہ ہم اسلام کو تمام دنیا میں قائم نہ کر کی دیں۔ہمیں یہ امیدیں تیرے فضل نے دلائی ہیں اور ہماری اُمنگیں تیری رحمت کا ہی نتیجہ ہیں پس اے آقا! ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ تو ہماری کمزوریوں کو نظر انداز کر کے ہم میں وہ قومی روح پیدا فرما جو دنیا کی فتح کے لئے ضروری ہے۔اور ہم میں وہ یگانگت اور اتحاد پیدا فرما