انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 312

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۱۲ پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام کے سلسلہ میں زریں نصائح ہے جسے دیکھ کر حیرت آتی ہے۔انگریز کے زمانہ میں بھی ان احکام پر عمل کرنے سے کوئی چیز نہیں روکتی تھی اور اب تو ہر رنگ میں آزادی حاصل ہے۔اُس وقت تو یہ خیال بھی آسکتا تھا کہ انگریز کی نقل کی وجہ سے لوگ اسلامی احکام پر عمل کرنے میں ست ہورہے ہیں مگر اب تو وہ بھی بھاگ گیا پھر ہمارے لئے ان احکام پر عمل کرنے میں روک کیا ہے اور کونسی چیز ہمارے لئے مانع ہے ہے۔جب کوئی بھی نہیں روکتا تو پھر اس شور کے کیا معنی ہیں کہ اسلامی حکومت قائم ہونی چاہیے۔یہ شور جو اخباروں میں مچایا جا رہا ہے اس کے متعلق دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں یا تو یہ کہ سارے کی ملک کی آواز ہے یا نہیں۔اگر یہ مُلک کی آواز نہیں تو اقلیت کو کیا حق ہے کہ جب اکثریت ایک بات کے خلاف ہے تو وہ اسے مجبور کرے اور کہے کہ ضرور اسلام پر عمل کرو۔اور اگر ملک کی کی اکثریت یہ چاہتی ہے کہ اسلامی قانون نافذ ہو تو سوال یہ ہے کہ جب اکثریت یہ چاہتی ہے کہ اسلام پر عمل ہو تو کیا وہ خود اسلام پر عمل کر رہی ہے؟ کیا پاکستان قائم ہونے سے پہلے دس نمازی مسجد میں آیا کرتے تھے؟ اور اب ان کی تعداد ہزار تک پہنچ گئی ہے؟ یا ہر مسلمان نماز پڑھنے لگی گیا ہے؟ یا اگر ہر مسلمان نہیں تو اکثر نماز پڑھنے لگ گئے ہیں؟ میں اس وقت تقریر میں ایک عام بات کر رہا ہوں اس کی سچائی یا جھوٹ کو اس جگہ پر پر کھا نہیں جا سکتا لیکن قرآن کریم نے ایک اصول بیان کیا ہے جس سے تم کسی بات کی حقیقت تک پہنچ سکتے ہو۔اور وہ اصول یہ ہے کہ جب تمہارے سامنے کوئی سچائی پیش ہو تو تم الگ الگ یا اکٹھے ہو کر غور کرو کہ کہنے والے نے سچی بات کہی تھی یا جھوٹی بات کہی تھی۔اس اصول کے مطابق آپ بھی غور کریں کہ کیا آپ کے ہمسایہ میں پاکستان بننے کے بعد سب لوگ نمازیں پڑھنے لگ گئے ہیں؟ آپ اپنے دوستوں سے پوچھئے کہ پاکستان بننے کے بعد نمازیوں میں کتنی ترقی ہوئی ہے اور پہلے ان کی تعداد کتنے فیصد کی تھی۔آیا پاکستان بننے کے بعد ۵۵ فیصدی لوگ نمازیں پڑھنے لگ گئے ہیں کہ ہم کہہ اکثریت نماز پڑھتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ جس نے ایک نماز بھی نہ پڑھی وہ کا فر ہو گیا ، اس لحاظ سے ہر مسلمان کو نماز کا پابند ہونا چاہیے۔مگر میں کہتا ہوں اس کو وسیع کرلو اور پھر حالات کا جائزہ لو۔آپ اپنے محلہ کے لوگوں سے ہی بات کیجئے اور پھر بتائیے کہ کیا مسلمانوں میں سے ۵۵ فیصدی لوگ نمازیں پڑھنے لگ گئے ہیں؟ مگر ایک بات یادر کھیئے سمیں