انوارالعلوم (جلد 21) — Page 306
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۰۶ پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام کے سلسلہ میں زریں نصائح لازماً قربانیاں کرنی پڑیں گی اور لازماً اپنا روپیہ خرچ کرنا پڑے گا۔اگر روپیہ نہیں ہوگا تو فو جیں کس طرح رکھی جاسکیں گی اور حکومت کے انتظامات کس طرح چلائے جائیں گے۔مگر باوجود اس کے کہ اب حکومت اپنی ہے اور اپنی چیز کے لئے زیادہ قربانیاں کرنی چاہئیں تاجر وہی ہیر پھیر کر رہے ہیں جو پہلے کیا کرتے تھے۔مثلاً سیلز ٹیکس کو ہی لے لو میں نے دیکھا ہے کہ بہت کم تاجر ہیں جو سیلز ٹیکس لگاتے ہیں اور گاہک پر سیلز ٹیکس نہ لگانے کا احسان رکھ کر اپنی چیزیں نہایت گراں قیمت پر فروخت کر دیتے ہیں۔ابھی لاہور سے آتے وقت میں نے بازار سے ایک چیز منگوائی جب مجھے اس کی قیمت بتائی گئی تو میں نے کہا کہ قیمت بہت زیادہ ہے۔اس پر آدمی پھر دُکاندار کے پاس گیا مگر اس نے واپس آ کر کہا کہ وہ دُکاندار کہتا ہے میں سیلز ٹیکس اپنے پاس سے دے دونگا قیمت اس سے کم نہیں ہو سکتی۔میں نے کہا یہ تو وہی بات ہوئی کہ ”حلوائی کی دُکان اور دادا جی کی فاتحہ۔سیلز ٹیکس تم مجھ سے لومگر یہ دھوکا بازی نہ کرو۔غرض تاجر کا عام طریق یہی کی ہے وہ گاہک کو بھی خوش کر لیتا ہے کیونکہ سیلز ٹیکس کھاتے میں نہیں چڑھا تا اور چیز بھی نہایت گراں قیمت پر فروخت کر دیتا ہے۔گورنمنٹ کا اندازہ یہ تھا کہ سیلز ٹیکس سے اسے سات سے دس کروڑ تک روپیہ وصول ہو گا لیکن پچھلے سال اس کی ساری وصولی اڑھائی کروڑ روپیہ کی ہوئی ہے گویا ی سات آٹھ کروڑ روپیہ تاجر اڑا گیا اور دوسرے ٹیکسوں کی بھی یہی حالت ہے۔وہ یہ سمجھتے ہی نہیں کہ اگر یہ چیزیں نہ ہوں گی اور خدانخواستہ کسی وقت دشمن آ گیا تو وہ کس پر حملہ کرے گا کیا وہ پاکستان پر نیزہ مارے گا ؟ پاکستان تو ایسی چیز نہیں جسے ہندو اور سکھ نیزے مارسکیں۔ہندو اور سکھ اگر پاکستان میں داخل ہوئے تو وہ پاکستان میں نیزہ نہیں ماریں گے وہ تمہارے سینوں میں نیزہ ماریں گے پس اس کے لئے اگر کوئی قربانی کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں ہی پہنچے گا۔نہ کرو گے تو اسے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی جو کچھ تکلیف پہنچے گی وہ تمہیں پہنچے گی۔اسی طرح علمی ترقی ہے علمی طور پر بھی ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ہم اپنے معیار کو بڑھائیں اگر پاکستان بن جانے کے بعد بھی یہاں کے لوگ اسی طرح جاہل رہیں جس طرح نیپال وغیرہ کے لوگ ہیں تو پاکستان کی دنیا میں کیا عزت ہو سکتی ہے اور علمی ترقی کا لجوں اور سکولوں سے ہوتی ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب بھی ہمارے نوجوان کھیل کو د اور لغویات میں اپنا وقت گزار رہے