انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxiii of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page xxxiii

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۸ تعارف کتب اُجاڑا جاتا ہے تو نو جو ان مکھیاں انسان کو چیلنج کرتی ہیں کہ تم نے ہمیں اُجاڑا ہے لیکن تم ہمارے عزم کو نہیں اُجاڑ سکتے۔ہم اس کے ساتھ ایک نیا چھتہ تیار کریں گی۔اسی طرح ہم ہر مصیبت پر ہر آفت ہر ابتلاء ہر امتحان کے موقع پر اپنی نسلوں اور اولادوں کو کہہ سکتے ہیں کہ اے اشرف المخلوقات کی نسلو! آفات اور مصائب سے گھبرانا نہیں۔تمہیں کم از کم اتنا عزم تو دکھانا چاہیے جتنا شہد کی مکھیاں دکھاتی ہیں۔“ حضرت مصلح موعود نے قادیان سے ہجرت کرنے کے بعد ربوہ میں نیا مرکز بنانے کے متعلق فرمایا۔اب ہم معماروں کی طرح نیا چھتہ بنا رہے ہیں اور اس امید میں ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے اسے شہد کے ساتھ بھر دیں گے اور مکھیاں کٹ کر دوبارہ یہاں آبیٹھیں گی۔“ اسی طرح غیر مبائعین کے اس اعتراض کے جواب میں کہ قادیان ہونے کی وجہ سے ان کو یہ قبولیت حاصل ہے اور لوگ ان کی طرف اس لئے آتے ہیں کے ان کے پاس حضرت مسیح موعود کا قائم کردہ مرکز ہے صرف اسی لئے ان کے گرد جماعت اکٹھی ہو رہی ہے۔حضرت مصلح موعود نے فرمایا۔” خدا تعالیٰ نے ہمیں قادیان سے نکال دیا ہم قادیان سے نکل کر بھی کمزور نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ پہلے ہم ایک ایک دو دو مبلغوں کی دعوتیں کرتے تھے اور اب ہم درجنوں کی دعوتیں کرتے ہیں کیونکہ اب مبلغوں کے رسالے باہر جانے شروع ہو گئے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ایک ہی دفعہ مبلغوں کی بٹالین باہر جائیں گی۔وہ دن دور نہیں جب مبلغوں کے بریگیڈ باہر جائیں گے۔وہ دن دور نہیں 66 مبلغوں کے ڈویژن تبلیغ اسلام کے لئے باہر جائیں گے۔“