انوارالعلوم (جلد 21) — Page iii
۱۹۴۴ء میں مصلح موعود ہونے کا اعلان فرمایا۔حضرت فضل عمر اپنی ذہانت و فطانت اور اپنے علومِ ظاہری و باطنی اور اپنی خدا داد صلاحیتوں اور استعدادوں کے ذریعہ سے نہ صرف جماعت احمدیہ کی ولولہ انگیز قیادت فرماتے رہے بلکہ آپ کے وجود باجود نے اقوام عالم بالخصوص مسلم امہ کی بھی راہنمائی اور رستگاری فرمائی۔گویا کہ اپنوں نے بھی فیض پایا اور غیروں نے بھی استفادہ کیا اور یوں قوموں نے آپ سے برکت حاصل کی۔کلام اللہ کا مرتبہ آپ کے ذریعہ سے ایسی شان کے ساتھ ظاہر ہوا کہ اغیار بھی آپ کے علم قرآن کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکے۔66 انوار العلوم کی اکیسویں جلد حضرت فضل عمر خلیفة المسیح الثانی کی ۲۴ تحریرات و تقاریر پر مبنی ہے جو کہ ۲۵ / دسمبر ۱۹۴۸ء سے ۱۸ / جولائی ۱۹۵۰ ء کے عرصہ کی ہیں۔یہ یہ وہ تاریخی دور ہے جب ہجرت قادیان کو ابھی تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا اور اس اولوالعزم خلیفہ کے ذریعہ پیش گوئی مصلح موعود کی ایک علامت وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا“ کا شاندار ظہور نئے مرکز احمدیت ربوہ کی تعمیر کے افتتاح کے ذریعہ بھی ہو چکا تھا جو کہ ۲۰ ستمبر ۱۹۴۸ء کو ہوا۔حضور نے ۱۹۴۹ء میں نئے مرکز میں مستقل سکونت اختیار فرمائی۔ربوہ میں ۱۹۴۸ء کا جلسہ سالانہ ۱۹۴۹ء کے شروع میں اور خدام الاحمدیہ کا پہلا اجتماع ۱۹۴۹ء میں منعقد ہوا جس کے تینوں دن حضور نے خطاب فرمایا اور حضور نے خدام الاحمدیہ کی قیادت بھی خود سنبھال لی۔اس عرصہ میں حضور کوئٹہ دوبارہ تشریف لے گئے وہاں مختلف تقریبات سے متعدد خطابات فرمائے۔اسی طرح جلسہ سالانہ ۱۹۴۹ء کے موقع پر بھی آپ نے جو خطابات فرمائے یہ سب مواد اس جلد کی زینت ہے۔نے جلسہ ہائے سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ کے خطابات کے علاوہ آ ۱۷ فروری ۱۹۴۹ء کو جماعت احمد یہ راولپنڈی کو اپنی نصائح سے نوازا۔کمپنی باغ سرگودہا