انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 246

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۴۶ با قاعدگی سے نمازیں پڑھنے ، اس کے اثرات پر غور۔۔۔مقصود نماز روزہ وغیرہ ہے۔یہ دونوں سہارے ہیں ایک جسم کے لئے اور ایک روح کے لئے۔ایک سے جسم کام کے قابل بنتا ہے اور دوسرے سے روح کام کے قابل بنتی ہے۔جسم میں جب طاقت پیدا ہوتی ہے تو انسان نوکری کرتا ہے، تجارت کرتا ہے اور دنیا کے دوسرے کام کرتا ہے۔اسی طرح جب انسان کو روحانی طاقت حاصل ہوتی ہے وہ مختلف کام کرتا ہے۔وہ کام کیا ہیں؟ وہ کام دو قسم کے ہیں۔ایک تو اس کا کام مخفی ہوتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی محبت میں ترقی کرنا ہوتا ہے۔دوسرا کام انسانی دماغ کی اصلاح اور اُس کی فکر کی اصلاح اور اُس کے خیالات و جذبات کی اصلاح ہے۔جس طرح روٹی کھانے کے نتیجہ میں انسان ہل چلاتا ہے، تجارت کرتا ہے، صنعت و حرفت کرتا ہے، مزدوری کرتا ہے۔انسان کے جسم میں طاقت ہو سبھی وہ اچھا سپاہی ، اچھا وکیل اور اچھا مدرس بن سکتا ہے۔اسی طرح روحانی غداؤں نماز ، روزہ ، زکوۃ، حج اور ذکر الہی وغیرہ کے نتیجہ میں انسان کو روحانی طاقت حاصل ہوتی ہے اور اس طاقت کے نتیجہ میں اُس کے اخلاق درست ہو جاتے ہیں۔وہ ظلم سے دور چلا جاتا ہے۔اُس کے اندر دیانت و امانت ، رحم۔اور عدل پیدا ہو جاتا ہے، اُس میں خدمت خلق کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے، محبت اور قرب الہی کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔اس کے بعد وہ خود بھی یہ کام کرتا ہے اور دوسروں سے بھی کرواتا ہے۔مثلاً جھوٹ نہیں بولتا اور کوشش کرتا ہے کہ دوسرے لوگ بھی جھوٹ نہ بولیں ، وہ دوسروں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ دوسروں کو بھی تلقین کرتا ہے کہ وہ بھی دوسروں پر ظلم نہ کریں، اُس کے خیالات پاکیزہ ہو جاتے ہیں اور وہ دوسروں کے خیالات کو بھی پاکیزہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔غرض اُس کی روح رات دن مخلوق کی اصلاح میں لگی رہتی ہے خود نما ز مقصود نہیں۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اِن الصلوة تنهى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ - جس طرح روٹی مقصود نہیں، روٹی کھانے سے طاقت پیدا ہوتی ہے اور پھر انسان دنیا کے کام کرتا ہے اسی طرح نماز اصل مقصود نہیں بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ وہ ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔جو شخص نماز پڑھتا ہے اُس کی روح کو طاقت ملتی ہے اور بُرائیوں کے مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہو جاتی ہے۔اُس کے اندر دیانت وامانت، عدل و انصاف ، رحم غرض جتنے اخلاق فاضلہ ہیں وہ سب پائے جاتے ہیں اور اس کے اندر یہ طاقت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کے