انوارالعلوم (جلد 21) — Page 189
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۸۹ قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر احمدی تھے اور گیارہ دوسرے تھے۔اگر تم فنونِ جنگ سیکھو گے تو ایمان کی وجہ سے تمہارے اندر جرات پیدا ہو گی بلکہ تم دوسروں کے اندر بھی دلیری پیدا کر سکو گے لیکن اگر تم فنونِ جنگ نہیں سیکھو گے تو دوسروں کے سامنے کیا نمونہ پیش کرو گے۔( غیر مطبوعہ از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ ) تم شاید کہہ دو کہ ہم چندہ زیادہ دیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ایمان اور اخلاص کا کیا تقاضا ہے؟ اخلاص تو یہ چاہتا ہے کہ جو کچھ خدا مانگے وہ دو۔یہ نہیں کہتا کہ خدا تعالیٰ جان مانگے تو تم جان نہ دو۔اگر تمہارے اندر اخلاص ہے تو تم چندہ بھی دو گے، وطن کیلئے ہر قسم کی قربانیاں بھی کرو گے اور اگر تمہاری جان کی ضرورت پڑے تو بشاشت کے ساتھ تم اپنی جان بھی پیش کرو گے۔“ الفضل ۱۵ ؍ جولائی ۱۹۶۱ء صفحہ ۵ کالم ۱) یہ وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے ہم ربوہ میں آئے ہیں۔یہ آواز ہے جو ربوہ سے اُٹھائی جائے گی۔آج جو لوگ ہم پر غداری کا الزام لگاتے ہیں اگر ملک پر کوئی کٹھن وقت آیا تو وہ بھگوڑے ہوں گے اور اوّل صف میں احمدی کھڑے ہو نگے۔مگر وہ مخلص احمدی ہونگے منافق نہیں۔میں نے پہلے بھی سنایا تھا اور آج عورتوں میں تقریر کرتے ہوئے بھی اس کا ذکر کیا ہے کہ وہ کی لوگ جن کو تم کمی کہا کرتے تھے وہ زیادہ قربانی کر رہے ہیں۔اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو جاٹ اور راجپوت وغیرہ کہہ کر مجلس میں اپنی بڑائیاں بیان کیا کرتے تھے وہ قربانی میں کم ہیں۔بلکہ وہ جی عورتیں جن کو تم کمزور سمجھتے تھے وہ تم سے زیادہ قربانیاں کر رہی ہیں۔گوجرانوالہ کے ضلع میں ایک بیوہ عورت تھی وہ بڑی عمر کی تھی اور اُس کا خاوند مر چکا تھا۔اُس کا ایک ہی بیٹا تھا اُس کے گاؤں میں ہمارا آدمی پہنچا جو فرقان فورس کے لئے ریکروٹ لینے گیا تھا۔لوگوں کو اکٹھا کیا گیا اور ہمارے اُس مبلغ نے تقریر کی اور نو جوانوں کو اس مقصد کے لئے بلا یا۔لیکن کمزور دل مرد خا موشی اور سر جھکائے کھڑے رہے تب وہ بیوہ عورت اُٹھی اور اُس نے پردہ میں اُسے آواز دی اور کی بڑے جوش سے کہا اوفلانے ! اپنے بیٹے کا نام لے کر کہا تو سنتا نہیں ! دین کے لئے جان کی ضرورت ہے اور تو خاموش کھڑا ہے ! تو جواب کیوں نہیں دیتا؟ وہ بچہ آگے آیا اور اُس نے اپنا کی نام لکھوایا۔یہ وہ قربانی کا مظاہرہ تھا جو ایک بیوہ اور بوڑھی عورت کی طرف سے کیا گیا۔اور میں