انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 166

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۶۶ آئندہ وہی قومیں عزت پائیں گی جو مالی و جانی۔اس لئے جب وہ نو جوان حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور کہا کہ ہم آپ کے پاس ایک سوال لے کر آئے ہیں۔حضرت عمر نے کہا میں نے آپ لوگوں کی بات کو سمجھ لیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپ کو اِس سلوک سے بہت تکلیف پہنچی ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ لوگوں کے باپ دا دا بڑی بڑی عزتوں کے مالک تھے مگر میں مجبور تھا۔یہ وہ لوگ تھے جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں عزت دی جاتی تھی ، میں اُن کو کس طرح پیچھے بٹھا سکتا تھا۔انہوں نے کہا ہم اس بات کو خوب سمجھ گئے ہیں ہمارا سوال صرف اتنا ہے کہ جو کچھ ہمارے باپ دادا سے ظلم ہو چکا ہے، اس کے ہوتے ہوئے کیا کوئی صورت ایسی بھی ہے جس سے یہ کلنک کا ٹیکہ ہمارے ماتھے سے دُور ہو سکے حضرت عمرؓ کو اس سوال پر اُن کے باپ دادا کی شان و شوکت یاد آ گئی ، آنکھوں کی میں آنسو بھر آئے ، آواز بھرا گئی زبان سے جواب دینے کی سکت نہ رہی ، صرف ہاتھ سے شام کی تی طرف اشارہ کیا اور خاموش ہو گئے۔مطلب یہ تھا کہ شام میں عیسائیوں سے جنگ ہو رہی ہے اگر تم اس جنگ میں شامل ہو کر اپنی جانیں دے دو تو یہ کلنک کا ٹیکہ تمہارے ماتھے سے دور ہو جائے گا۔اُنہوں نے یہ جواب سنا تو اُسی وقت اُٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی سواریوں پر زین کسی اور اس جنگ میں شامل ہونے کے لئے شام چلے گئے اور تاریخیں بتاتی ہیں کہ وہ سارے کے سارے اُسی جنگ میں مارے گئے۔اُن میں سے ایک بھی زندہ واپس نہیں آیا۔کے پس یا د رکھو کہ آئندہ صرف چندوں سے کام نہیں چلے گا چندے بھی چلیں گے اور جان کی قربانی بھی چلے گی اور وہی تو میں عزت پائیں گی جو ان قربانیوں میں حصہ لیں گی۔میں نے تم کو وقت پر ہوشیار کر دیا ہے خواہ اس وقت تم میری بات کو سمجھ یا نہ سمجھو۔جس وقت انسان کے پاس دولت ہوتی ہے، اُس کے دماغ میں غرور ہوتا ہے اور وہ دوسرے کی بات کو حقارت کے ساتھ رڈ کر دیتا ہے۔مکہ والوں کے دماغ میں بھی یہی غرور تھا جس کی وجہ سے انہوں نے نقصان اُٹھایا۔تم بھی کہو گے کہ ہماری حکومت دائمی ہے لیکن میں دیکھتا ہوں اور خدائی آنکھوں سے دیکھ رہا ت ہوں کہ تم میں سے وہ جن کی اصلاح نہیں ہوگی وہ ذلیل کئے جائیں گے، وہ تباہ اور برباد کئے جائیں گے۔پس جاؤ اور اپنے مردوں اور بچوں کی اصلاح کرو، جاؤ اور اُن میں قربانی کا مادہ پیدا کر و۔اگر نہیں کرو گی تو تم اس کا عبرتناک انجام دیکھو گی۔اولا د یں اس لئے ہوا کرتی ہیں کہ