انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 164

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۶۴ آئندہ وہی قو میں عزت پائیں گی جو مالی و جانی تمہارے بڑے بڑے چوہدری اُٹھایا کریں گے کیونکہ احمدیت کی حکومت ہوگی اور جس کو احمدیت اونچا کرے گی وہی اونچا ہو گا دوسرا کوئی نہیں ہو گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مکہ کے رؤساء نے آپ کی بڑی بڑی مخالفتیں کیں اور آپ کو سخت دُکھ دیئے مگر غلاموں نے آپ کی اطاعت کی اور وہ آپ پر صدق دل سے ایمان لے آئے اور پھر ایمان لانے کے بعد اُنہوں نے بڑی بڑی قربانیاں کیں۔بلال جو ایک غلام تھے جب ایمان لائے تو اُن کا آقا اُنہیں رسی سے باندھ کر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور وہ سارا دن اُسے دھوپ میں مکہ کی گلیوں میں گھسیٹتے پھرتے جن میں بڑے بڑے کھنگر پڑے ہوئے کی ہوتے تھے اور پھر اُسے مار مار کر کہتے کہ کہو خدا ایک نہیں تو وہ نیچے سے جواب دیتا کہ اَسهَدُ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا الله بلال چونکہ حبشی تھے اس لئے وہ ش نہیں بول سکتے تھے لوگ اَسهَدُ کا لفظ سنتے تو ہنس پڑتے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ تم لوگ سنتے ہو کہ بلال اَشْهَدُ کی جگہ اَسْهَدُ کہتا ہے اور تم اس پر ہنستے ہو۔مگر آسمان پر بیٹھا ہوا خدا اِس اَسهَدُ کو اتنا پسند کرتا ہے کہ تمہارا ہزا ر اَشْهَدُ کہنا بھی اِس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔یہ تکالیف تھیں جو بلال کو پہنچائی گئیں۔مگر جانتے ہو جب مکہ فتح ہوا تو وہ بلال حبشی غلام جس کے سینے پر مکہ کے بڑے بڑے افسر نا چا کرتے تھے اُس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا عزت دی؟ اور کس طرح اس کا کفار سے انتقام لیا؟ جب مکہ فتح ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کے ہاتھ میں ایک جھنڈا دے دیا اور اعلان کر دیا کہ اے مکہ کے سردارو! اگر تم اپنی جانیں بچانا چاہتے ہو تو بلال کے جھنڈے کے نیچے آ کر کھڑے ہو جاؤ۔گویا وہ بلال کی جس کے سینہ پر مکہ کے بڑے بڑے سردار نا چا کرتے تھے اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کو بتایا کہ آج تمہاری جانیں اگر بچ سکتی ہیں تو اس کی یہی صورت ہے کہ تم بلال کی غلامی میں آجاؤ حالانکہ بلال غلام تھا اور وہ چوہدری تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت عمر جو آدھی دنیا کے مالک بن چکے تھے ایک دفعہ حج کے لئے مکہ پہنچے۔نماز کے بعد آپ کو مبارکباد دینے کے لئے بڑے بڑے رؤساء جو مکہ پر حکومت کیا کرتے تھے اور جن کے دربار میں حضرت عمرؓ کا باپ بھی ادب سے