انوارالعلوم (جلد 21) — Page 107
انوار العلوم جلد ۲۱ 1۔2 اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کا ری کامیابی ہے وہ انہیں لجنہ اماء اللہ میں شامل کرائیں اور اُنہیں اجلاسوں میں بھیجا کریں۔وہ یاد رکھیں کہ قیامت کے دن کوئی شخص یہ کہہ کر بریت حاصل نہیں کر سکتا کہ وہ خود نمازیں پڑھتا تھا، وہ خود چندہ دیتا تھا ، وہ خود جماعتی کاموں میں حصہ لیتا تھا بلکہ قرآن کریم کہتا ہے کہ اُس سے اُس کی بیوی کے متعلق بھی سوال کیا جائے گا۔اگر اُس کی بیوی جماعتی کاموں میں حصہ نہیں لیتی تو یہ بات اُسے مجرم بنانے کے لئے کافی ہے۔پھر اپنے بچوں کو خدام الاحمدیہ میں داخل کرو، ان کی تربیت کرو۔قرآن کریم کہتا ہے کہ بچوں کی تربیت کے ذمہ وار باپ ہیں اور اِس میں اُس نے عورتوں کو بھی شامل کیا ہے۔ایک عورت یہ کہہ کر اپنی بریت نہیں کر سکتی کہ وہ لجنہ اماءاللہ کی ممبر ہے۔مشترکہ کاموں میں حصہ لیتی ہے ہے، چندے دیتی ہے، تبلیغ کرتی ہے، نمازیں پڑھتی ہے، زکوۃ دیتی ہے۔بے شک یہ سب کچھ وہ کرتی ہے لیکن قیامت کے دن اس سے یہ بھی سوال کیا جائے گا کہ کیا اس نے اپنی اولا د کو بھی دیندار بنایا ہے؟ کیا انہیں سلسلہ کے کاموں میں حصہ لینے کی عادت ڈالی ہے؟ اگر نہیں تو خدا تعالیٰ اُس سے کہے گا کہ تم مجرم ہو۔میں نے تمہیں صرف یہ نہیں کہا تھا کہ تم یہ کام کرو بلکہ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ تم یہ کام اپنی اولاد سے بھی کراؤ۔میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم سچ بولو بلکہ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ تم اپنی اولا د کو بھی سچ بولنے کی عادت ڈالو۔میں نے صرف یہ نہیں کہا تھا کہ تم خود نمازیں پڑھو اور روزے رکھو بلکہ میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر تمہارا کوئی بیٹا ہے یا بیٹی ہے تو مج اُسے بھی ان کاموں کی عادت ڈالو۔میں نے تمہیں یہ نہیں کہا تھا کہ تم خود جماعتی کاموں میں حصہ لو بلکہ میں نے تم سے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ اپنی اولا دکو بھی جماعتی کاموں میں حصہ لینے کی عادت ڈالو۔اسی طرح مرد سے بھی یہ سوال کیا جائے گا۔غرض یہ چیز کافی نہیں کہ تم خود اخلاص دکھاؤ بلکہ ضروری ہے کہ تم اپنی اولاد میں بھی اخلاص کا مادہ پیدا کر و۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تمہاری اپنی قربانی کافی نہیں ہو سکتی۔میں یہ نہیں کہتا کہ ایسا نہ کرنے سے تم جہنمی بن جاؤ گے مگر یہ ضرور کہوں گا کہ ایسا نہ کرنے سے تمہارے ثواب کا ایک حصہ ضرور کٹ جائے گا۔جماعت کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ وہ سلسلہ قیامت تک چلا جائے گا۔فر دمرتا ہے لیکن جماعتیں نہیں مرتیں۔چنانچہ ہارون الرشید کے زمانہ میں ابن جنی کے ایک شاگرد ہوا کرتے تھے۔ہارون الرشید نے