انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 106

انوار العلوم جلد ۲۱ ١٠٦ اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کا ری کامیابی ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت نہ کریں۔قومی زندگی کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔اسلام ایک قومی مذہب ہے باقی مذاہب میں سے کوئی مذہب قومی حیثیت نہیں رکھتا۔ہمارے تمام کاموں میں جتھہ بندی اور جمعیت پائی جاتی ہے۔مثلاً نماز ہے۔باقی کسی مذہب میں ایسی نماز نہیں پائی جاتی۔یہ نماز صرف اسلام میں ہی پائی جاتی ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ گر جاؤں میں بھی لوگ جمع ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر دعا کرتے ہیں مگر وہ نماز بھی اسلامی نمازوں کی طرح نہیں۔ہم نے خود دیکھا ہے کہ گر جاؤں میں جب پادری وعظ کر رہا ہوتا ہے تو تو لوگوں میں سے بعض ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔کسی کا منہ کسی طرف ہوتا ہے اور کسی کی کا منہ کسی طرف۔کوئی کرسی پر بیٹھا ہوا ہوتا ہے تو کوئی بینچ پر بیٹھا ہوا ہوتا ہے۔اس نماز کا اسلامی نماز کے ساتھ کوئی جوڑ ہی نہیں۔جماعت کے تو یہ معنی ہوتے ہیں کہ سب مل کر ایک کام کریں اور کی ایک ہی جگہ کام کریں اور یہ بات عیسائیوں کی نماز میں نہیں پائی جاتی۔مثلاً ایک پادری اگر تقریر کر رہا ہوتا ہے تو اُس کا ایک نائب ہاتھ میں شمع لئے کھڑا ہوتا ہے۔کسی کے ہاتھ میں پانی ہوتا تج ہے۔کوئی خوشبو لئے کھڑا ہوتا ہے۔کیا ہماری نماز میں بھی ایسا ہوتا ہے؟ ہماری نماز میں تو سارے کے سارے ایک ہی کام میں لگے ہوئے ہوتے ہیں۔اسی طرح چندے ہیں ، زکوۃ ہے اس میں بھی کوئی دوسری قوم اسلام کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔یہودیوں میں یہ بات پائی جاتی ہے مگر وہ بھی اِس رنگ میں نہیں جس رنگ میں اسلام نے اسے پیش کیا ہے۔اسلام نے ان چیزوں کو کی ایسی شرائط کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے کہ ان کی مثال دوسرے مذہب میں نہیں مل سکتی۔پھر حج ہے۔سال میں ایک دن حج ہوتا ہے۔سب ممالک سے لوگ آ کر جمع ہوتے ہیں۔ایک ہی دن ہے خانہ کعبہ کا طواف کرنا ہوتا ہے۔ایک ہی دن عرفات جانا ہوتا ہے۔منی جانا ہوتا ہے اور پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ فلاں فلاں دن قربانی کی جائے۔یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو کسی اور مذہب میں نہیں پائی جاتیں۔غرض اسلام ایک جماعتی مذہب ہے اور مسلمانوں کے لئے ترقی کرنا ناممکن ہے جب تک وہ جماعتی طور پر اس کے لئے کوشش نہ کریں اور جب تک وہ متحدہ طور پر اس کام کو نہیں کرتے وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس میں جماعت کے مردوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جو عورتیں لجنہ اماء اللہ میں شامل نہیں ہیں