انوارالعلوم (جلد 21) — Page 94
انوار العلوم جلد ۲۱ ۹۴ اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کا مہ کامیابی ہے بے سروسامانی ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔تعداد میں کم ہونا ہمیں فکر میں نہیں ڈال سکتا۔اس چھ تعلق کے پیدا ہو جانے کے بعد ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ کوئی بھی ہمارے مقابلہ میں آئے ہم اس کے مقابلہ میں جیتیں گے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہو اُسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف جب ہجرت کر کے گئے اور غار ثور میں چھپے تو دشمن آپ کی تلاش کرتا کرتا اس غار کے منہ پر پہنچ گیا۔کھوجیوں نے اُس وقت یہ صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا تو اس غار میں چھپے ہوئے ہیں اور یا آسمان پر چڑھ گئے ہیں۔اُس وقت حضرت ابو بکر گھبرا گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا۔اے ابو بکر ! گھبراتے کیوں ہو؟ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔سے قرآن کریم آپ کے یہ الفاظ بیان فرماتا ہے کہ لا تحزن إن الله معنا اللہ تعالیٰ جب ہمارے ساتھ ہے تو پھر اے ابو بکر ! تم غمگین کیوں ہوتے ہو۔اگر ہماری قوم ہماری دشمن ہے تو ڈر کی کون سی بات ہے اللہ تعالیٰ تو ہمارے ساتھ ہے۔حضرت ابو بکر نے فرمایا يَارَسُولَ الله! مجھے اپنے متعلق کچھ فکر نہیں مجھے تو اس بات کا فکر ہے کہ دشمن کہیں آپ کو نقصان نہ پہنچائے۔آپ نے فرمایا لا تحزن إن الله معنا ابو بکر غم مت کرو اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے اور وہی ہمیں دشمن سے بچائے گا۔ہمارے پاس بے شک ظاہری سامان نہیں ، ہمارے پاس بے شک ظاہری فوج نہیں لیکن خدا تعالیٰ تو ہمارے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ خدا تعالیٰ ہو اس کے لئے خوف اور ڈر کی کیا وجہ ہے۔پس طاقتور دشمن کے مقابلہ میں فتح حاصل کرنے کا ایک نسخہ تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق قائم کیا جائے کہ اسے ہمارے متعلق غیرت ہو۔دوسرا نسخہ یہ ہے کہ دنیاوی سامان میسر ہوں۔روپیہ ہو ، طاقت ہو ، حکومت ہو، مثلاً امریکہ کو جس طرح آجکل یہ برتری حاصل ہے یا انگلستان کو کسی زمانہ میں حاصل ہوا کرتی تھی اور وہ باوجود ایک چھوٹا سا ملک ہونے کے دنیا کے تمام ممالک پر حکومت کرتا تھا اسی طرح ہمیں طاقت حاصل ہو مگر یہ چیز ہمیں حاصل نہیں اور ہم حاصل کر بھی نہیں سکتے۔جن چیزوں سے دولت حاصل ہوتی ہے وہ ہمیں میسر نہیں اور اگر وہ