انوارالعلوم (جلد 21) — Page xi
انوار العلوم جلد ۲۱ تعارف کتب خلیفتہ المسیح الثانی نے ایک اہم تقریر فرمائی جس میں آپ نے مسٹر عبدالشکور کنزے کا ذاتی تعارف کروایا اور اُن کے اسلام قبول کرنے کی تفصیلات پر روشنی ڈالی اور ان کے اشاعت اسلام کے جذبہ کے پیش نظر اُن کی دینی تعلیم و تربیت کے متعلق پروگرام بیان فرمایا۔نوٹ : مسٹر عبدالشکور کنزے اپنے بعض حالات و وجوہات کی وجہ سے اب جماعت احمد یہ کے ممبر نہیں رہے۔(۴) اللہ تعالیٰ سے سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنے میں ہی ہماری کامیابی ہے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے علا رفروری ۱۹۴۹ء کو جماعت احمد یہ راولپنڈی سے یہ روح پر ور خطاب فرمایا جس میں حضور نے جماعت کو اپنی تنظیم مضبوط کرنے ، خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے اور عورتوں اور بچوں کی تربیت کرنے کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی تھی۔حضور نے فرمایا کہ:۔و تقسیم ملک کی وجہ سے ہم پر ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں کیونکہ ہماری تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔راولپنڈی کی جماعت جو پہلے بہت چھوٹی سی جماعت تھی غالباً پچھیں تمہیں افراد پر مشتمل تھی لیکن اب اس کی تعداد تین چار سو کے درمیان ہے۔اور اگر مستورات کو بھی اس میں ملا لیا جائے تو اس کی تعداد پندرہ سو یا دو ہزار کے قریب بن جاتی ہے۔تعداد کے بڑھنے کی نسبت سے بیداری کا پیدا ہونا بھی ضروری ہے۔اس لئے جماعت کو اپنے چندوں کو بڑھانا چاہئے اپنی قربانیوں کے معیار کو بلند کرنا چاہئے اور پھر سب سے بڑھ کر خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرنا چاہئے تا کہ اس کی زیادہ سے زیادہ تائید حاصل ہو۔یہ امر یاد رکھو کہ کامیابی کے لئے جن مادی سامانوں کی ضرورت