انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 71

انوار العلوم جلد ۲۱ اے ہرعبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب پڑھنے کے لئے بڑھاپے میں اُردو زبان سیکھی اور ی پھر اپنے بچوں کو بھی سکھائی۔اسی طرح عرب ممالک سے بھی بعض دوست آئے ہیں اور اُنہوں نے اُردو زبان سیکھی۔مسٹر بشیر احمد آرچرڈ انگلینڈ سے آئے اور اُنہوں نے اُردو زبان سیکھی اور مسٹر کنزے جرمنی سے آئے ہیں وہ بھی اُردو زبان سیکھیں گے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ احمدیت کی اشاعت کے ساتھ ساتھ اُردو زبان بھی پھیلتی جائے گی۔یہ لوگ جب واپس جائیں گے اور چونکہ اِن میں دوسری زبان سیکھنے کا بہت شوق ہوتا ہے اس لئے یہ اپنے دوسرے دوستوں کو بھی اُردو سکھائیں گے اور یہ چیز اُردو زبان کی ترقی کا موجب ہوگی اور لازماً پاکستان کے تعلقات بھی اُن ممالک سے گہرے ہو جائیں گے۔ہمارے ملک میں یہ سوال عام طور پر پایا جاتا ہے کہ آیا اُردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے یا انگریزی زبان کو بھی ذریعہ تعلیم بنایا جائے ؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر اُردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا گیا تو پاکستان تمام ممالک سے کٹ جائے گا۔ذریعہ تعلیم اُسی زبان کو ہی بنانا چاہئے جسے دوسرے لوگ بھی سیکھیں۔احمدیت کی اشاعت سے یہ سوال بھی حل ہوتی جائے گا۔احمدیت کی وجہ سے اُردو زبان دوسرے ممالک میں پھیل رہی ہے اور انشَاءَ الله ایک دن ایسا آئے گا جب پاکستان کا ہر ایک آدمی یہ سمجھنے لگ جائے گا کہ ہمیں کسی فارن لینگویج (FORIEGN LANGUAGE) یا اُردو زبان کے علاوہ کسی اور زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی ضرورت نہیں۔شیخ بشیر احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور نے یہ خواہش کی ہے کہ مسٹر کنزے ایسا نمونہ کریں کہ یہاں کے نوجوانوں میں بھی بیداری پیدا ہو جائے اور وہ اپنی زندگیاں خدمت دین کیلئے وقف کریں۔مسٹر کنزے میرے روحانی فرزند ہیں اور مجھے اِن سے بے حد محبت ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ جو لوگ یہاں رہتے ہیں وہ نمونہ دکھا ئیں اور مسٹر کنزے اس کی اتباع کریں۔ابتداء ہم میں ہوئی ہے اس لئے ہم پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔بیشک ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے بھائی بہنیں لیکن یہ کہ اُن سے خواہش کی جائے کہ وہ ہمارے لئے کی نمونہ بنیں درست نہیں۔ہمیں اپنا نمونہ پیش کرنا چاہئے تا وہ ہم سے اچھا نمونہ لے کر اپنے ملک