انوارالعلوم (جلد 21) — Page 69
انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۹ ہرعبدالشکور کنزے کے اعزاز میں دعوتوں کے مواقع پر تین تقاریر میں نے اس بات پر بہت غور کیا ہے اور بعض جرمن احمدیوں کو جب میں نے چٹھیاں لکھیں تو اُن پر اس بات کو واضح کیا ہے۔میں سوچتا ہوں کہ یہ قوم عمل اور قربانی میں دوسری قوموں کی سے زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ ایک سو سال سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے مگر وہ کی ہمیشہ ناکام رہی ہے اور اُس نے ہمیشہ ڈپلومیسی میں شکست کھائی ہے اور جس مقام کے حاصل کرنے کا اُسے حق حاصل تھا اُسے وہ حاصل نہیں کر سکی۔اس کی کئی وجوہ دوسرے لوگوں نے بتائی ہیں لیکن میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اس قوم میں اسلام پھیلانا چاہتا ہے اور چونکہ اس قوم میں اسلام پھیلنا ہے اس لئے جب بھی وہ کسی دنیاوی ترقی کیلئے کوشش کرتی ہے ناکام رہتی ہے۔یورپ میں اسلام کا بھی حصہ ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام بیشک ایشیا میں پیدا ہوئے تھے مگر بعد میں عیسائیت یورپ میں بھی پھیلی۔اسی طرح اب اسلام کی بھی یورپ میں پھیلنے کی باری ہے اور جس طرح اٹلی کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ اُس نے ابتدا میں عیسائیت کو قبول کیا اور اس کے بعد عیسائیت کو تمام یورپ میں پھیلایا اُسی طرح اسلام کے لئے بھی تو کوئی نہ کوئی ملک مقدر ہوگا جو اسلام کو قبول کر کے اُسے آگے تمام یورپ میں پھیلائے۔میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ملک جرمنی ہے پچھلے سو سال کے عرصہ میں جب بھی اُنہوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی ہمیشہ ناکام رہے۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہ مذہب کو لیڈ کریں اس لئے جب بھی اُنہوں نے آگے بڑھنے کے لئے جد و جہد کی اُس میں ناکام رہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جب اس قوم میں اسلام پھیلے گا وہ اسلام کے لئے ہر ممکن قربانی کرے گی۔میں دیکھتا ہوں کہ انگلینڈ میں ہماری سالہا سال کی کوششوں کے بعد جتنے مسلمان ہوئے ہیں جرمنی میں ہماری ایک سال کی کوشش سے اُتنے احمدی ہو گئے ہیں اور مجھے کثرت سے خطوط آ رہے ہیں کہ وہ اسلام کی تحقیق کر رہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ احمدیت کی آئندہ ترقی میں ان کا بہت زیادہ حصہ ہوگا۔ان لوگوں میں اتنا جوش پایا جاتا ہے کہ جب پاکستان پر مصیبت آئی تو حکومت نے چاہا کہ جرمنی سے کچھ افسر منگوائے جائیں اور فوج میں رکھے جائیں تا ملکی دفاع کو مضبوط کیا جا سکے۔اُس وقت جرمنی میں ایک ہی احمدی تھا (مسٹر کنزے کے علاوہ ایک اور احمدی تھے جو ہمبرگ