انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 77

دیباچهتفسیر القرآن 22 XXXXXXXXXX انوار العلوم جلد ۲۰ various readings of the MSS of the NT were from the very first intentional alterations۔The NT in very early times had no canonical authority, and alterations, and additions were actually made where they seemed improvements یعنی عہد نامہ قدیم عیسائیوں نے عیسائیوں کی خاطر لکھا تھا۔علاوہ ازیں یہ یونانی میں یونانی بولنے والوں کے لئے لکھا گیا تھا اور طرز تحریر اُس وقت کے رائج طرز تحریر کے مطابق تھا۔یونانی بولنے والے گر جا کے تاریخی تسلسل میں کوئی فرق نہیں پڑا۔اس لئے ہمیں تحریر کی کوئی حقیقی غلطی موجودہ نسخوں میں نہیں ملتی۔گو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اختلافات پائے نہیں جاتے۔لیکن وہ ی اختلافات اتفاقی نہیں ہیں بلکہ دیدہ دانستہ پیدا کئے گئے ہیں اور شروع سے ہی بعض مصنفوں نے بالا راده وه تغیرات عہد نامہ میں پیدا کئے۔حقیقت یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم اپنے ابتدائی زمانہ میں کوئی مذہبی نقدس نہیں رکھتا تھا ( یعنی اُسے خدائی کتاب نہیں کہا جاتا تھا ) اس لئے جہاں کہیں تبدیلیوں اور زیادتیوں سے مضمون میں اصلاح کی امید کی جاتی تھی وہاں تبدیلیاں اور زیادتیاں دلیری سے کر دی جاتی تھیں۔( ح ) پھر لکھا ہے:۔What is certain is that by the middle of fourth century۔Latin biblical MSS exhibited a most confusing variety of text caused at least in part by revision from later Greek MSS as well as by modifications of the Latin phraseology۔This confusion lasted until all the old latin (or-ante-hieronymain) texts were supplanted by the revised version of jerome (383-400 A۔D) which was undertaken at the request of pope Damasus ultimately became the vulgate of the western Church۔یعنی جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ چوتھی صدی کے درمیان میں بائبل کا لاطینی نسخہ نہایت ہی پراگندہ حالت میں تھا اور یہ مضامین کی پراگندگی یونانی نسخہ سے مقابلہ کی وجہ سے اور