انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 60

انوار العلوم جلد ۲۰ ۶۰ زور سے نازل ہوتی رہی۔پھر سموئیل اُٹھ کر رامہ کو چلا گیا۔چه تفسیر القرآن مگر نمبرا تو اریخ باب ۲ آیت ۱۳ تا ۱۵ میں لکھا ہے کہ داؤ د یسی کا ساتواں بیٹا تھا۔چنانچہ لکھا ہے:۔” اور میسی سے اُس کا پلوٹھا الیاب پیدا ہوا اور ابینداب دوسرا اور سمع تیسرا، نینیتل چوتھا،ردی پانچواں ، عوضم چھٹا ، داؤ دسا تواں“۔یہ اختلاف بتا تا ہے کہ بائبل میں مختلف مؤرخوں نے اپنے اپنے خیالات داخل کر دیئے ہیں اور یہ موجودہ حالت میں محفوظ آسمانی کتاب نہیں کہلا سکتی۔نمبر ۲ سموئیل باب ۶ آیت ۲۳ میں لکھا ہے:۔سو ساؤل کی بیٹی میکل مرتے دم تک بے اولا در ہی۔“ مگر نمبر ۲ سموئیل باب ۲۱ آیت ۸ میں لکھا ہے:۔اور ساؤل کی بیٹی میکل کے پانچوں بیٹوں کو جو برزلی محولاتی کے بیٹے عدری ایل سے ہوئے تھے لے کر ان کو جعونیوں کے حوالے کیا“۔ایک ہی کتاب میں ایک ہی جگہ اُسے بانجھ قرار دیا گیا ہے اور اُسی کتاب میں دوسری جگہ اس کے پانچ بیٹے قرار دیئے گئے ہیں۔۷۔نمبر ۲ تواریخ باب ۲۱ آیت ۱۹ ،۲۰ میں لکھا ہے کہ یہورام بادشاہ ۳۲ سال کی عمر میں بادشاہ ہوا اور آٹھ برس اُس نے بادشاہت کی اور پھر دو سال بادشاہت سے معزول ہو کر ایک سخت بیماری کے اثر سے وفات پا گیا۔گویا اس کی عمر ۴۲ سال کی تھی۔لیکن اسی کتاب کے باب ۲۲ آیت ۲،۱ سے معلوم ہوتا ہے کہ یروشلم کے باشندوں نے یہو رام کے چھوٹے بیٹے اخزیاہ کو اُس کی جگہ بادشاہ بنایا کیونکہ اُس کی انبوہ نے جو عربوں کے ساتھ چھاؤنی میں آیا تھا سب بڑے بیٹوں کو قتل کیا تھا سوا خزیاہ بن بیہورام یہوواہ کا بادشاہ ہوا۔اخزیاہ بیالیس برس کی عمر میں بادشاہ ہوا۔چونکہ اوپر کے حوالہ سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہو رام کی عمر اُس کی وفات کے وقت ۴۲ سال کی تھی اس لئے اس دوسرے حوالے کی بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہورام بادشاہ کا سب سے چھوٹا