انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 606 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 606

انوار العلوم جلد ۲۰ ۶۰۶ ہندوستان کے احمدیوں کے نام پیغام بھی نہیں گزرے ہوں گے اور پہلے سے بھی زیادہ مضبوط جماعتیں وہاں قائم ہو جائیں گی بلکہ اردگرد کے علاقوں میں بھی احمدیت پھیلنے لگ جائے گی۔یہ یادر ہے کہ سب کے سب مبلغوں کو اکٹھا نہ بھجوایا جائے کیونکہ ممکن ہے کہ ان کے قائم مقاموں کے آنے میں دقت پیدا ہوا ور قا دیان کی احمدی آبادی کم ہو جائے۔اس خطرہ کو آپ کبھی نہ بھولیں اور ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھیں۔ہمیشہ پہلے باہر سے آنے والوں کو اندر لایا کریں اور پھر بعض دوسروں کو باہر جانے کی اجازت دیا کریں سوائے ان پانچ کے جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔(۵) چونکہ اب ملک میں ہندی کا زور ہو گا اسلئے آپ لوگ بھی دیوتا گری رسم الخط کے سیکھنے کی کوشش کریں اور ہندی زبان میں لٹریچر کی اشاعت کی طرف خاص توجہ دیں۔(۶) جب تک باہر سے واقفین کے آنے کی پوری آزادی نہ ہو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ طالب علموں کو مولوی بشیر احمد صاحب اپنے ساتھ رکھ کر دہلی میں پڑھائیں اور کچھ طالب علموں کی کو ساتھ رکھ کر مولوی محمد سلیم صاحب کلکتہ میں پڑھائیں اور کچھ طالب علموں کو ساتھ رکھ کر مولوی عبدالمالک صاحب حیدر آباد میں پڑھائیں اور پھر ان کو ارد گرد کے علاقوں میں پھیلاتے چلے جائیں لیکن یہ مدنظر رکھا جائے کہ ہندوستان کے چندوں سے ہندوستان کا خرچ چل سکے اور قادیان کی آبادی کا خرچ بھی وہیں سے نکل سکے۔(۷) قادیان میں احمدیوں کے آنے اور قادیان کے احمدیوں کو ہندوستان یونین میں جانے کے متعلق آزادی کرانے کے لئے آپ لوگ با قاعدہ کوشش کریں اور کوشش کرتے چلے جائیں تا کہ قادیان میں پھر زائرین آنے لگ جائیں اور قادیان کی نہر ایک کھڑے پانی کے جو ہر کی سی شکل اختیار نہ کر لے۔(۸) آبادی کی زندگی کے لئے عورتوں اور بچوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔آپ لوگ متواتر حکومت کے ساتھ خط و کتابت کریں اور کوشش کریں کہ ایسے حالات پیدا ہو جا ئیں کہ قادیان کے ساکنان کے بیوی بچے وہاں حفاظت کے ساتھ رہ سکیں۔(۹) جونہی قادیان میں کچھ ایسے نوجوان آجائیں جن کا تعلیم پانے کا زمانہ ہو تو فوراً ایک سکول کی بنیا درکھ دی جائے جس کے متعلق کوشش ہو کہ وہ آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جائے۔