انوارالعلوم (جلد 20) — Page 591
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۹۱ احمدیت کا پیغام تھے۔قائل ہی نہیں وہ اس بات کے بھی مدعی تھے کہ خدا تعالیٰ ان سے باتیں کرتا ہے لیکن ایک صدی سے مسلمانوں پر یہ آفت نازل ہوئی ہے کہ وہ کلی طور پر کلام الہی کے جاری رہنے سے منکر ہو گئے بلکہ بعض علماء نے تو اس حقیقت کے اظہار کو کفر قرار دے دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر دنیا کے سامنے یہ دعویٰ پیش کیا کہ مجھ سے خدا تعالیٰ باتیں کرتا ہے اور مجھ سے ہی نہیں بلکہ جو شخص میری اتباع کرے گا اور میرے نقش قدم پر چلے گا اور میری تعلیم کو مانے گا اور میری ہدایت کو قبول کرے گا خدا تعالیٰ اس سے بھی باتیں کرے گا۔آپ نے متواتر خدائی کلام کو دنیا کے سامنے پیش کیا اور اپنے ماننے والوں میں تحریک کی کہ تم بھی خدا تعالیٰ کی کے ان انعامات کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔آپ نے فرمایا مسلمان پانچ وقت خدا تعالیٰ سے یہ دعا مانگتا ہے کہ اِهْدِنَا الصّراطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اے خدا! تو ہمیں سیدھا رستہ دکھا ان لوگوں کا رستہ جن پر تو نے انعام نازل کئے تھے یعنی سابق انبیاء کرام۔پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کی یہ دعا ہمیشہ ہمیش کے لئے رائیگاں جاتی اور ی خدا تعالیٰ مسلمانوں میں سے کسی کے لیے بھی وہ رستہ نہ کھولتا جو پہلے نبیوں کے لئے کھولا گیا تھا تو اور کسی شخص سے بھی اس طرح کلام نہ کرتا جس طرح پہلے نبیوں سے کلام کرتا تھا۔اس طرح کی آپ نے اس جمود کو کلی طور پر دور کر دیا جو مسلمانوں کے دلوں پر طاری تھا۔میں نہیں کہتا کہ ہر احمدی مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ہر وہ احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مقصد کو پوری طرح سمجھ گیا وہ نماز کو اس طرح نہیں پڑھتا کہ گویا وہ ایک فرض ادا کر رہا ہے۔وہ نماز کو اس طرح پڑھتا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ سے کچھ لینے گیا ہے۔وہ خدا تعالیٰ سے ایک نیا تعلق پیدا کرنے کے لئے گیا ہے اور اس ارادہ کے ساتھ جو شخص نماز پڑھے گا، سمجھ میں آ سکتا ہے کہ اس کی نماز اور دوسرے لوگوں کی نماز یکساں نہیں ہو سکتی۔آپ نے خدا تعالیٰ کے تعلق پر اس حد تک زور دیا کہ فرمایا کہ میرے دعوے کے ماننے کے لئے خدا تعالیٰ نے بہت سے دلائل دیئے ہیں۔مگر میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم ان دلائل کو سوچو اور ان پر غور کرو۔اگر تم ان دلائل پر سوچنے کی اور غور کرنے کا موقع نہیں پاتے یا اس کی ضرورت نہیں سمجھتے یا یہ خیال کرتے ہو کہ شاید ہماری عقل ان باتوں کے متعلق فیصلہ کرنے میں کوئی غلطی کر جائے تو میں تمہیں اس طرف توجہ دلاتا