انوارالعلوم (جلد 20) — Page 567
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۶۷ احمدیت کا پیغام احمدیوں کا فرشتوں کے متعلق عقیدہ انہی ناواقف لوگوں میں سے بعض لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ احمدی فرشتوں اور شیطان کے قائل نہیں یہ الزام بھی محض اتہام ہے۔فرشتوں کا ذکر بھی قرآن کریم میں موجود ہے اور شیطان کا ذکر بھی قرآن کریم میں موجود ہے جن چیزوں کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے قرآن کریم پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہوئے ان چیزوں کا انکا ر احمدیت کر ہی کس طرح سکتی ہے۔ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے فرشتوں پر پورا ایمان رکھتے ہیں بلکہ احمدیت سے جو برکات ہمیں حاصل ہوئی ہیں ان کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ ہم فرشتوں پر ایمان لاتے ہیں بلکہ ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ فرشتوں کے ساتھ قرآن کریم کی مدد سے تعلق بھی پیدا کیا جا سکتا ہے اور ان سے علوم روحانیہ بھی سیکھے جا سکتے ہیں۔خود راقم الحروف نے کئی علوم فرشتوں سے سیکھے۔مجھے ایک دفعہ ایک فرشتہ نے سورہ فاتحہ کی تفسیر پڑھائی اور اُس وقت سے لے کر اس وقت تک سورہ فاتحہ کے اس قدر مطالب مجھ پر کھلے ہیں کہ ان کی حد ہی کوئی نہیں اور میرا دعویٰ ہے کہ کسی مذہب وملت کا آدمی روحانی علوم میں سے کسی مضمون کے متعلق بھی جو کچھ اپنی ساری کتاب میں سے نکال سکتا ہے اُس سے بڑھ کر مضامین خدا تعالیٰ کے فضل سے میں صرف سورہ فاتحہ میں سے نکال سکتا ہوں۔مدتوں سے میں دنیا کو یہ چیلنج دے رہا ہوں مگر آج تک کسی نے اس چیلنج کو قبول نہیں کیا۔ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت، توحید الہی کا ثبوت، رسالت اور اس کی ضرورت ،شریعت کا ملہ کی علامات اور بنی نوع انسان کے لئے اس کی ضرورت، دعا، تقدیر ، حشر و نشر، جنت و دوزخ ، ان تمام مضامین پر سوره فاتحہ سے ایسی روشنی پڑتی ہے کہ دوسری کتب کے سینکڑوں صفحات بھی اتنی روشنی انسان کو نہیں پہنچاتے۔پس فرشتوں کے انکار کا تو کوئی سوال ہی نہیں احمدی تو فرشتوں سے فائدہ اُٹھانے کا بھی مدعی ہے۔باقی رہا شیطان ، سوشیطان تو ایک گندی چیز ہے اس پر ایمان لانے کا سوال ہی کوئی نہیں۔ہاں اس کے وجود کا علم ہمیں قرآن کریم سے حاصل ہوتا ہے اور ہم اس کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے ذمہ یہ کام لگایا ہے کہ ہم شیطان کی طاقت کو توڑیں اور اس کی حکومت کو مٹائیں۔شیطان کو بھی میں