انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 564

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۶۴ احمدیت کا پیغام سنگ مرمر ہی ہے پس یہ خیال کر لینا کہ چونکہ اسلام میں کلمہ پایا جاتا ہے اس لئے باقی مذاہب کا بھی کلمہ ہوتا ہوگا ، یہ محض ناواقفیت ہے اور قرآن کریم پر غور نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔اس سے بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ بعض لوگوں نے تو لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ اللَّهِ - لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُوسَى كَلِيمُ اللهِ اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عِيسَى رُوحُ اللہ کے کلمات بھی پیش کر دیئے ہیں اور کہا ہے کہ یہ پہلے مذاہب کے کلمے ہیں۔حالانکہ تورات اور انجیل اور عیسائی لٹریچر میں ان کلموں کا کہیں نام و نشان بھی نہیں۔مسلمانوں میں آج ہزاروں خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں لیکن کیا وہ اپنا کلمہ بھول گئے ہیں؟ پھر یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ عیسائی اور یہودی اپنا کلمہ بھول گئے ہیں۔اگر وہ اپنا کلمہ بھول گئے ہیں اور ان کی کتابوں سے بھی یہ کلمے غائب ہو گئے ہیں تو مسلمانوں کو یہ کلمے کس نے بتائے ہیں حق یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کا کلمہ نہیں تھا۔کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیتوں میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ سارے نبیوں کی میں سے صرف آپ کو کلمہ ملا ہے اور کسی نبی کو کلمہ نہیں ملا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کلمہ میں اقرار کی رسالت کو اقرار توحید کے ساتھ ملا دیا گیا ہے اور اقرار تو حید ایک دائمی صداقت ہے وہ کبھی مٹ نہیں سکتی۔چونکہ پہلے نبیوں کی نبوت کے زمانہ نے کسی نہ کسی وقت ختم ہو جانا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ان میں سے کسی نبی کے نام کو اپنے نام کے ساتھ ملا کر نہیں بیان کیا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت نے چونکہ قیامت تک چلتے چلے جانا تھا اور آپ کا زمانہ کبھی ختم نہیں ہونا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی رسالت اور آپ کے نام کو کلمہ تو حید کے ساتھ ملا کر بیان کیا تا دنیا کو یہ بتادے کہ جس طرح لا اله الا اللہ کبھی نہیں مٹے گا اسی طرح مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله بھی کی کبھی نہیں مٹے گا۔تعجب ہے کہ یہودی نہیں کہتا کہ موسیٰ علیہ السلام کا کوئی کلمہ تھا۔عیسائی نہیں کہتا کہ عیسی علیہ السلام کا کوئی کلمہ تھا۔صابی نہیں کہتا کہ ابراہیم علیہ السلام کا کوئی کلمہ تھا۔لیکن مسلمان جس کے نبی کی کلمہ خصوصیت تھا ، جس کے نبی کو اللہ تعالیٰ نے کلمہ سے ممتاز کیا تھا ، جس کو کلمہ کے ذریعہ سے دوسری قوموں پر فضیلت دی گئی وہ بڑی فراخدلی سے اپنے نبی کی اس فضیلت کو دوسرے نبیوں میں بانٹنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور جبکہ اور نبیوں کی اپنی اُمتیں کسی کلمہ کی دعویدار نہیں یہ ان کی طرف سے کلے بنا کر آپ پیش کر دیتا ہے کہ یہودیوں کا یہ کلمہ تھا اور