انوارالعلوم (جلد 20) — Page 38
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۸ دیباچہ تفسیر القرآن سننے والے شُو در کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالنے کا ارشاد کرتے ہیں؟ کیا بدھ اس ضرورت کو پورا کرتے ہیں جن کا ذہن ہندوستان کی چار دیواری سے باہر کبھی گیا ہی نہیں ؟ ہاں ! کیا مسیح کی تعلیم اس غرض کو پورا کرنے والی ہے جو خود کہتا ہے کہ: یہ مت خیال کرو کہ میں تو راہ یا نبیوں کی کتاب منسوخ کرنے آیا ہوں۔میں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پوری کرنے آیا ہوں۔کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت کا ہرگز نہ مٹے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو۔۳۶ اور موسی اور گزشتہ نبیوں نے عالمگیر مذہب کے متعلق جو کچھ خیالات ظاہر کئے ہیں وہ میں او پر لکھ ہی چکا ہوں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عیسائیت نے ساری دنیا کو تبلیغ کی ہے مگر یہ تبلیغ مسیح کے ذہن میں تو نہ تھی۔سوال اس کا نہیں کہ دنیا کیا کرتی ہے۔سوال اس بات کا ہے کہ بھیجنے والے خدا کا منشاء کیا تھا اور اس منشاء کو مسیح کے سوا کون ظاہر کر سکتا ہے۔مسیح خود کہتا ہے کہ:۔میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیٹروں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا اور کہ: گیا۔۳۷ ابن آدم آیا ہے کہ کھوئے ہوئے کو ڈھونڈ کے بچاوے“۔۳۸ پس مسیح کی تعلیم سوائے بنی اسرائیل کے اور کسی کے لئے نہ تھی۔کہا جاتا ہے کہ مسیح نے دوسری اقوام کی طرف جانے کی بھی ہدایت کی تھی جیسے کہ اُس نے کہا:۔تم جا کر سب قوموں کو شاگرد کرو اور انہیں باپ، بیٹے اور روح القدس کے " نام سے بپتسمہ دو“۔۳۹ مگر اس حوالہ سے یہ نتیجہ نکالنا کہ میچ نے بنی اسرائیل کے سوا اور قوموں کی طرف بھی جانے کی ہدایت کی تھی درست نہیں۔کیونکہ مسیح خود کہتا ہے کہ:۔تم جو میرے پیچھے ہو لئے جب نئی خلقت میں ابن آدم جلال کے تخت پر بیٹھے گا تم بھی بارہ تختوں پر بیٹھو گے اور اسرائیل کے بارہ گروہوں کی عدالت ہوگی۔۴۰