انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 486

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۸۶ دیباچہ تفسیر القرآن ہے تو وہ صرف یہودی دعوے کے تقابل کے لئے ہے حقیقت محض کے اظہار کے لئے نہیں۔ویدوں کو بھی میں نے دیکھا ہے ان میں بھی بہت کم صفات خدا تعالیٰ کی بیان ہوئی ہیں اور یہی حال ترند اوستا کا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ چونکہ قرآن کریم کامل کتاب ہے اور روحانیت کی تکمیل کے لئے آخری زینہ ہے اس لئے اس میں وہ صفات بھی آگئی ہیں جو پہلی کتابوں نے بیان کیں اور ان کے علاوہ کئی زائد صفات بھی اس میں بیان کی گئی ہیں۔بعض لوگوں کو ان صفات کے دیکھنے سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض متضاد صفات بھی ہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ رحم کرنے والا بھی ہے اور خدا تعالیٰ سزا دینے والا بھی ہے۔خدا تعالیٰ غنی بھی ہے اور پھر وہ پیدا بھی کرتا ہے اور بنی نوع انسان کی طرف ہدایت بھی بھیجتا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اسے ان چیزوں کے وجود میں آنے کی خواہش ہے۔عام طور پر ایسے دماغوں کی میں یہ سوالات پیدا ہوا کرتے ہیں جنہوں نے فلسفہ پر ادھورا غور کیا ہوتا ہے وہ اس حقیقت کو نہیں جانتے کہ دنیا کا سارا حسن تو اس کے بظا ہر نظر آنے والے اختلاف میں ہی پایا جاتا ہے یہ لوگ اس امر پر غور نہیں کرتے کہ مختلف چیزیں اپنا الگ الگ دائرہ رکھتی ہیں یاز نجیر کی کڑیوں کی طرح ایک کڑی کے ختم ہونے پر دوسری کڑی شروع ہوتی ہے۔یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ سزا بھی دیتا ہے لیکن سزا دینے کے لئے اس نے کچھ قوانین مقرر کئے ہیں۔جب وہ قوانین چاہتے ہیں تو وہ سزا دیتا ہے اور جب عفو کے متعلق اُس کے مقرر کئے ہوئے قوانین کا تقاضا بڑھ جاتا ہے تو وہ عفو کرتا ہے اور ایک ہی وقت میں کسی انسان کے لئے اس کی سزا کی صفت جاری ہو رہی ہوتی ہے اور کسی انسان کے لئے اس کی بخشش کی صفت ظہور میں آ رہی ہوتی ہے۔کسی انسان کے لئے اس کے پیدا کرنے کی صفت اور کسی انسان کے لئے اس کے مارنے کی صفت جاری ہو رہی ہوتی ہے۔میں ابھی چھوٹا تھا کہ آریہ سماج کے ایک لیڈر نے مجھ سے سوال کیا کہ خدا تعالیٰ کو قرآن کریم میں رَبُّ العلمین کہا گیا ہے پھر وہ مارتا کیوں ہے حالانکہ رَبُّ العلمین کے تو معنی ہیں پیدا کر کے تکمیل تک پہنچانا۔یہ اعتراض محض سطحی تھا رَبُّ العلمین کے یہ تو معنی نہیں کہ اس کی کو مارے نہیں۔قرآن کریم میں رب العالم نہیں کہا گیا بلکہ رب العلمین کہا گیا ہے اور جب ایک چیز ایک طرف سے دوسری طرف کو منتقل ہو جاتی ہے تو ربوبیت کی صفت بھی ایک دوسری شکل