انوارالعلوم (جلد 20) — Page 484
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۸۴ دیباچہ تفسیر القرآن لطیف فرق ہے مثلاً پیدائش کے متعلق اللہ تعالی کی کئی صفات بیان ہوئی ہیں۔جیسے خَالِقُ كُلّ شَيْءٍ - البديع_الفاطر - الخالق - البارى المعيد المصوّر الربّ۔یہ صفات بظاہر ملتی جلتی نظر آتی ہیں لیکن در حقیقت یہ مختلف ممتاز معنوں پر دلالت کرتی ہیں۔خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ سے اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ روح اور مادہ کا بھی پیدا کرنے والا ہے کیونکہ بعض قو میں خدا تعالیٰ کو صرف جوڑنے جاڑنے کا موجب سمجھتی ہیں۔بسیط مادے کا خالق نہیں سمجھتیں۔ان کا خیال ہے کہ مادہ اور روح بھی خدا تعالیٰ کی طرح از لی اور انادی ہیں۔اگر خالی لفظ خالق ہوتا تو لوگ یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم بھی خدا تعالیٰ کو خالق مانتے ہیں مگر ہمارے نزدیک خالق کے یہ معنی ہیں کہ وہ ان چیزوں کو جوڑ جاڑ کر ایک نئی شکل دے دیتا ہے۔ان لوگوں کو اس تاویل کی وجہ سے قرآن کریم کا حقیقی منشاء واضح اور روشن طور پر ثابت نہ ہوسکتا۔پس خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ کی صفت نے محض خلق کی صفت سے ایک زائد مضمون بیان کیا ہے۔بدیع کا مفہوم یہ ہے کہ نظام عالم کا ڈیزائن اور نقشہ خدا تعالیٰ نے بنایا ہے۔گویا یہ اتفاقی نہیں یا موجودات میں سے کسی کی نقل نہیں۔فطر کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کو پھاڑ کر اس میں سے مادہ کو نکالنا۔پس فاطر کی صفت سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مادہ پیدا کیا اس کے اندر اس نے مخفی ارتقاء کی طاقتیں رکھیں اور اپنے وقت پر وہ پردے جو ان طاقتوں کو دبائے کی ہوئے تھے اُن کو اس نے پھاڑ دیا۔جیسے بیج کے اندر درخت یا پودا بننے کی خاصیت ہوتی ہے مگر وہ ایک خاص حالات کا منتظر رہتا ہے، اس وقت اور اس موسم میں وہ اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے غرض فاطر کے لفظ نے بتا دیا کہ خدا تعالیٰ نے سب کچھ یکدم نہیں کر دیا بلکہ دنیا کو ایک قانون کے مطابق پیدا کیا ہے۔ہر ایک درجہ کے متعلق ایک قانون کام کر رہا ہے ایک اندرونی تیاری کی دنیا میں ہوتی رہتی ہے اور ایک خاص وقت پر جا کر بعض مخفی طاقتیں اپنے آپ کو ظاہر کر دیتی ہیں اور ایک نئی چیز بننے لگ جاتی ہے۔خالق کے معنی وہ بھی ہیں جو خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ میں بیان ہو چکے ہیں۔لیکن ان کے علاوہ ایک اور معنی بھی خالق کے ہیں، اور وہ تجویز کرنے والے کے ہیں۔پس خالق کے معنی یہ ہیں کہ مختلف چیزوں کو اپنی اپنی جگہ پر رکھنا۔یہ بھی خدا تعالیٰ کا ہی کام ہے۔اس دنیا کو ایک خاص نظام کے ماتحت خدا تعالیٰ نے رکھا ہے اور اس پر خالق کا لفظ دلالت