انوارالعلوم (جلد 20) — Page 36
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۶ دیباچہ تفسیر القرآن کی تمام اقوام میں یہاں تک کہ بعض جزائر کے وحشی قبائل میں بھی طوفانِ نوح کی خبر ملتی ہے۔چونکہ ایسا طوفان جو ساری دنیا میں آیا ہو اور پھر ساری دنیا کو اس کے عالمگیر ہونے کا علم بھی ہو، یہ ایک غیر طبعی سادعوی ہو گا اس لئے یہی بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ دنیا کے کسی ایک مقام پر یہ طوفان آیا تھا جب کہ دنیا کی آبادی ایک جگہ پر تھی اور اس کے بعد لوگ اِدھر اُدھر پھیل گئے۔پس گو بابل کے زمانہ تک دنیا کا ایک ہونا ثابت نہ ہو مگر نوح کے زمانہ تک تو دنیا کا ایک ہونا ثابت ہوتا ہے۔نوح کے زمانہ کے بعد کسی وقت جب بنی نوع انسان متفرق ملکوں میں پھیل گئے اور وہ تعلیم جو نوع نے دی تھی آہستہ آہستہ خراب ہونے لگی تو اس وجہ سے کہ آمد ورفت کے ذرائع محدود تھے اور ایک ملک کے نبی کی آواز دوسری جگہ نہیں پہنچتی تھی خدا تعالیٰ نے مختلف ملکوں میں اپنے نبی بھیجے تا کہ کوئی قوم اُس کی ہدایت سے محروم نہ رہ جائے اور اس سے اختلاف مذاہب کی بنیاد پڑی۔چونکہ بنی نوع انسان کی دماغی حالت ابھی تکمیل کو اور علم و عقل اپنے نقطۂ مرکزی کو نہ پہنچے تھے اس لئے ہر ملک اور اُس ملک کی دماغی حالت کے مطابق تعلیمات نازل ہوئیں۔لیکن جب نسلیں ترقی کرتی گئیں اور غیر ممالک آباد ہونے شروع ہوئے اور آبادیوں کے فاصلے کم ہوتے چلے گئے اور ذرائع آمد و رفت میں ترقی ہوتی چلی گئی۔کشتیوں نے جہازوں کی صورت اور جہازوں نے بادبانی کی جہازوں کی صورت اختیار کر لی۔پاؤں پر چلنے والوں نے بیلوں پر ، پھر اونٹوں ، گدھوں ، گھوڑوں پر چڑھنا شروع کیا پھر ہاتھیوں پر چڑھنا شروع کیا اور پھر آرام اور سہولت سے سفر کرنے کیلئے بیلوں ، گھوڑوں اور گدھوں کو گاڑیوں میں جو تنا شروع کیا اور پھر ان گاڑیوں اور جہازوں نے سڑکوں اور سمندروں کے ذریعہ سے دُور دور تک آمد ورفت کے سلسلہ کو جاری کیا۔تمام بنی نوع کیلئے ایک کامل الغرض جب انسانی دماغ اس حد تک پہنچ گیا کہ مختلف حالات کے متوازی تعلیمات کو سمجھ سکے دین کا ظہور اور توحید پر زور اور موقع مناسب پر ان کا استعمال کر سکے۔جب انسان باہمی میل جول کے بعد اس نتیجہ پر پہنچنے کے قابل ہوا کہ سب بنی نوع انسان ایک ہی ہیں اور سب کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے اور سب کو ہدایت دینے والا ایک ہادی ہے تب اللہ تعالی