انوارالعلوم (جلد 20) — Page 403
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۰۳ ، چه تفسیر القرآن گالی دے تو اُس کا کفارہ یہی ہے کہ اُس کو آزاد کر دے۔۴۶۸ اسی طرح آپ غلاموں کو آزاد کرنے کے متعلق اتنا زور دیتے تھے کہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے جو شخص کسی غلام کو آزاد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس غلام کے ہر عضو کے بدلہ میں اس کے ہر عضو پر دوزخ کی آگ حرام کر دے گا۔۶۹؎ پھر آپ فرمایا کرتے تھے غلام سے اتنا ہی کام لو جتنا وہ کر سکتا ہے اور جب اس سے کوئی کام لو تو اس کے ساتھ مل کر کام کیا کرو تا کہ ذلت محسوس نہ کرے۔اور جب سفر کرو تو یا اس کو سواری پر اپنے ساتھ بٹھا دیا اس کے ساتھ باری مقرر کر کے سواری پر چڑھو۔اس بارہ میں آپ اتنی تاکید فرماتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ جو اسلام لانے کے بعد ہر وقت آپ کے ساتھ رہتے تھے اور آپ کی اس تعلیم کو اکثر سنتے رہتے تھے وہ کہا کرتے تھے کہ اُس خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو ہریرہ کی جان ہے اگر اللہ تعالیٰ کے رستہ میں جہاد کا موقع مجھے نہ مل رہا ہوتا اور حج کی توفیق نہ مل رہی ہوتی اور میری بڑھیا ماں زندہ نہ ہوتی جس کی خدمت مجھ پر فرض ہے تو میں خواہش کرتا کہ میں غلامی کی حالت میں مروں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غلام کے حق میں نہایت ہی نیک باتیں فرمایا کرتے تھے۔اے ہے معرور بن سویڈ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو ذر غفاری کو دیکھا کہ جیسے اُن کے کپڑے تھے ویسے ہی اُن کے غلام کے تھے۔اس کی وجہ پوچھی کہ آپ کے کپڑے اور آپ کے غلام کے کپڑے ایک جیسے کیوں ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کو اُس کی ماں کا کی طعنہ دیا جو لونڈی تھی اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو تو ایسا شخص ہے جس میں ابھی تک کفر کی باتیں پائی جاتی ہیں۔غلام کیا ہیں؟ تمہارے بھائی ہیں اور تمہاری طاقت کا ذریعہ ہیں خدا تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت وہ کچھ عرصہ کے لئے تمہارے قبضہ میں آ جاتے ہیں پس چاہئے ی کہ جس کا بھائی اُس کی خدمت تلے آجائے وہ جو کچھ خود کھاتا ہے اُسے کھلائے اور جو کچھ خود پہنتا ہے اُسے پہنائے اور تم میں سے کوئی شخص کسی غلام سے ایسا کام نہ لے جس کی اُسے طاقت نہ ہو اور جب تم انہیں کوئی کام بتاؤ تو خود بھی ان کے ساتھ مل کر کام کیا کرو۔۴۷۲ اسی طرح آپ فرمایا کرتے تھے جب تمہارا نو کر تمہارے لئے کھانا لائے تو اُس کو اپنے