انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 373

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۷۳ دیا چه تفسیر القرآن جو کوئی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اُس کومیں بتائے دیتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو چکے ہیں۔حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ جس وقت ابو بکر نے مَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُول والی آیت پڑھنی شروع کی تو میرے ہوش درست ہونے شروع ہوئے۔اس آیت کے ختم کرنے تک میری روحانی آنکھیں کھل گئیں اور میں نے سمجھ لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واقعہ میں فوت ہو گئے ہیں تب میرے گھٹنے کانپ گئے اور میں نڈھال کی ہوکر زمین پر گر گیا۔۳۹۱ وہ شخص جو تلوار سے ابو بکر کو مارنا چاہتا تھا وہ اب ابو بکر کے صداقت بھرے لفظوں کے ساتھ خود قتل ہو گیا۔صحابہ کہتے ہیں کہ اُس وقت ہمیں یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ آیت آج ہی نازل ہوئی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے صدمہ میں یہ آیت ہمیں بھول ہی گئی تھی۔اُس وقت حسان بن ثابت نے جو مدینہ کے ایک بہت بڑے شاعر تھے یہ شعر کہا۔كُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيَ عَلَى النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أُحَاذِرُ ۳۹۲ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو تو میری آنکھوں کی پتلی تھا آج تیرے مرنے سے میری آنکھیں اندھی ہو گئیں۔اب تیرے مرنے کے بعد کوئی مرے، میرا باپ مرے، میرا بھائی مرے، میرا بیٹا مرے، میری بیوی مرے مجھے ان میں سے کسی کی موت کی پرواہ نہیں۔میں تو تیری ہی موت سے ڈرا کرتا تھا۔یہ شعر ہر مسلمان کے دل کی آواز تھا۔اس کے بعد کئی دنوں تک مدینہ کی گلیوں میں مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مسلمان بچے یہی شعر پڑھتے پھرتے تھے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو تو ہماری آنکھوں کی پتلی تھا تیرے مرنے سے ہم تو اندھے ہو گئے۔اب ہمارا کوئی عزیز اور کی قریبی رشتہ دار مرے ہمیں پرواہ نہیں۔ہمیں تو تیری ہی موت کا خوف تھا۔