انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 325

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۲۵ دیا چه تفسیر القرآن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گرفتاری کے لئے یمن کے گورنر کو حکم بھی دے دیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو محفوظ رکھا اور کسری اور یہودیوں کی تدبیر کو نا کام کر دیا۔ظاہر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہوتا تو جہاں تک مادی سامانوں کا تعلق ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک طرف کسری اور دوسری طرف قیصر کے لشکروں کا کیا کی مقابلہ کر سکتے تھے۔خدا ہی تھا جس نے کسریٰ کو مار دیا اور اس کے بیٹے سے یہ حکم جاری کروا دیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں کوئی کارروائی نہ کی جائے اور اس نشان کو دیکھ کر کی یمن کے حکام اسلام لے آئے اور یمن کا صوبہ بغیر لشکر کشی کے اسلامی حکومت میں داخل ہو گیا۔یہ صورت حالات جو یہود نے پیدا کر دی تھی اس بات کی متقاضی تھی کہ یہود کو مدینہ سے اور بھی پرے دھکیل دیا جائے کیونکہ اگر وہ مدینہ کے قریب رہتے تو یقیناً اور بھی زیادہ خونریزیوں اور شرارتوں اور سازشوں کے مرتکب ہوتے۔پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ سے واپسی آنے کے قریبا پانچ ماہ بعد یہ فیصلہ کیا کہ یہودی خیبر سے جو مدینہ سے صرف چند منزل کے فاصلہ پر تھا اور جہاں سے مدینہ کے خلاف آسانی سے سازش کی جاسکتی تھی نکال دیئے جائیں۔چنانچہ آپ نے سولہ سو صحابہؓ کے ساتھ اگست ۶۲۸ء میں خیبر کی طرف کوچ فرمایا۔خیبر ایک قلعہ بند شہر تھا اور اس کے چاروں طرف چٹانوں کے اوپر قلعے بنے ہوئے تھے۔ایسے مضبوط شہر کو اتنے تھوڑے سے سپاہیوں کے ساتھ فتح کر لینا کوئی آسان بات نہ تھی اردگرد کی چھوٹی چھوٹی چوکیاں تو چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کے بعد فتح ہو گئیں۔لیکن جب یہودی سمٹ سمٹا کر شہر کے مرکزی قلعہ میں آگئے تو اس کے فتح کرنے کی تمام تدابیر بیکار جانے لگیں۔ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے بتایا کہ اس شہر کی فتح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مقدر ہے آپ نے صبح کے وقت یہ اعلان کیا کہ میں اسلام کا سیاہ جھنڈا آج اس کے ہاتھ میں دوں گا جس کو خدا اور اس کا رسول اور مسلمان پیار کرتے ہیں خدا تعالیٰ نے اس قلعہ کی فتح اس کے ہاتھ پر مقدر کی ہے۔اس کے بعد دوسری صبح آپ نے حضرت علیؓ کو بلایا اور جھنڈا اُن کے سپر د کیا۔جنہوں نے صحابہ کی فوج کو ساتھ لے کر قلعہ پر حملہ کیا۔باوجود اس کے کہ یہودی قلعہ بند تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت علی اور دوسرے صحابہ کو اُس دن ایسی قوت بخشی کہ شام سے پہلے پہلے قلعہ فتح ہو