انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 263

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۶۳ دیباچهتفسیر القرآن پاؤں کو مدینہ کی گلیوں میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے۔اس فدائیت سے ابوسفیان متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور اُس نے حیرت سے زید کی طرف دیکھا اور فوراً ہی دبی زبان میں کہا کہ خدا گواہ ہے کہ جس طرح محمد کے ساتھ محمدؐ کے ساتھی محبت کرتے ہیں میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی اور شخص کسی سے محبت کرتا ہو۔۲۷۴ ۷۰ حفاظ قرآن کے قتل کا حادثہ انہی ایام کے قریب قریب نجد کے کچھ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تا اُن کے ساتھ چند مسلمانوں کو بھیج دیا جائے تاکہ وہ اُن کو اسلام سکھلائیں۔آنحضرت می نے اُن کا اعتبار نہ کیا۔مگر ابو براء نے جو اُس وقت مدینہ میں تھے کہا کہ میں اس قبیلہ کی طرف سے ضمانتی بنتا ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین دلایا کہ وہ کوئی شرارت نہیں کریں گے۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۷۰ مسلمانوں کو جو حافظ قرآن تھے اس کام کے لئے کی انتخاب کیا۔جب یہ جماعت بئر معونہ پر پہنچی تو اُن میں سے ایک شخص حرام بن ملحان قبیلہ عامر کے رئیس کے پاس گیا جو ابو براء کا بھتیجا تھا تا کہ اُس کو اسلام کا پیغام دے۔بظاہر قبیلہ والوں نے حرام کا اچھی طرح استقبال کیا مگر جس وقت وہ رئیس کے سامنے تقریر کر رہے تھے تو ایک آدمی چھپ کر پیچھے سے آیا اور اُن پر نیزہ سے حملہ کیا۔حرام و ہیں مارے گئے۔جب نیزہ اُن کے گلے سے پار ہوا تو وہ یہ کہتے ہوئے سنے گئے کہ اللهُ أَكْبَرُ - فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ - یعنی اللہ اکبر۔کعبہ کے رب کی قسم ! میں اپنی مراد کو پہنچ گیا۔۲۷۵ اس دھوکا بازی سے حرام کے قتل کرنے کے بعد قبیلہ کے سرداروں نے اہلِ قبیلہ کو جوش دلا یا کہ باقی جماعت معلمین پر بھی حملہ کریں۔مگر قبیلہ والوں نے کہا کہ ہمارے رئیس ابو براء نے ضامن بنا منظور کیا ہے ہم اس جماعت پر حملہ نہیں کر سکتے۔اس پر قبیلہ کے سرداروں نے اُن دو قبیلوں کی مدد کے ساتھ جو مسلمان معلمین کو لانے کے لئے گئے تھے ، جماعت معلمین پر حملہ کر دیا۔اُن کا یہ کہنا کہ ہم وعظ کرنے اور اسلام سکھانے آئے ہیں لڑنے نہیں آئے بالکل کارگر نہ ہوا اور کفار نے مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔آخر تین آدمیوں کے سوا باقی سب شہید ہو گئے۔اس جماعت میں سے ایک آدمی لنگڑا تھا اور لڑائی ہونے سے پہلے پہاڑی پر چڑھ گیا تھا اور دو