انوارالعلوم (جلد 20) — Page 258
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۵۸ دیباچہ تفسیر القرآن مسلمان عورتوں کی بازاروں میں بیحرمتی کی جاتی تھی۔ایک دفعہ اس جھگڑے میں ایک مسلمان بھی مارا گیا۔ایک دفعہ ایک مسلمان لڑکی کا سر یہود نے پتھروں سے مار مار کر کچل دیا اور ی وہ تڑپ تڑپ کر مرگئی۔اِن اسباب کی وجہ سے یہودیوں کے ساتھ بھی مسلمانوں کو جنگ کرنا پڑی۔مگر عرب اور یہود کے دستور کے مطابق مسلمانوں نے اُن کو مارا نہیں ، بلکہ صرف مدینہ سے چلے جانے کی شرط پر انہیں چھوڑ دیا۔چنانچہ اُن دونوں قبیلوں میں سے ایک تو شام کی طرف ہجرت کر گیا اور دوسرے کا کچھ حصہ شام کو چلا گیا اور کچھ مدینہ سے شمال کی طرف خیبر نامی ایک شہر کی طرف۔یہ شہر عرب میں یہود کا مرکز تھا اور زبردست قلعوں پر مشتمل تھا۔شراب نوشی کی ممانعت کا حکم جنگ احد اور اس کے بعد کی جنگ کے وقفہ کے درمیان دنیا نے اسلام کے اس اثر کی جو اس کا اپنے کی اور اُس کا بے نظیر اثر پیروؤں پر تھا ایک بین مثال دیکھی۔ہماری مراد۔امتناع شراب سے ہے۔اسلام سے پہلے اہلِ عرب کی حالت کو بیان کرتے ہوئے ہم نے بتلایا تھا کہ اہلِ عرب عادی شراب خور تھے۔ہر معز ز عرب خاندان میں دن میں پانچ دفعہ شراب پی جاتی تھی اور شراب کے نشہ میں مدہوش ہو جانا اُن کے لئے معمولی بات تھی اور اس میں وہ ذرا بھی شرم محسوس نہ کرتے تھے بلکہ وہ اس کو ایک اچھا کام سمجھتے تھے۔جب کوئی مہمان آتا تو گھر کی ما لکہ کا فرض ہوتا کہ وہ شراب کا دور جاری کرتی۔اس قسم کے لوگوں سے ایسی تباہ کن عادت کو چھڑا نا کوئی آسان بات نہ تھی۔مگر ہجرت کے چوتھے سال آنحضرت علیہ پر حکم نازل ہوا ہے کہ شراب حرام کی جاتی ہے۔اس حکم کا اعلان ہوتے ہی مسلمانوں نے شراب پینا بالکل ترک کر دیا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔کہ جب شراب کی حرمت کا الہام نازل ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو بلایا اور حکم دیا کے اس نئے حکم کا اعلان مدینہ کی گلیوں میں کر دو۔ایک انصاری کے گھر میں جو مدینہ کا مسلمان تھا اُس وقت شراب کی مجلس ہو رہی تھی بہت تی سے لوگ مدعو تھے اور شراب کا دور چل رہا تھا۔ایک بڑا مٹکا خالی ہو چکا تھا اور ایک دوسرا مٹکا کی شروع کیا جانے والا تھا۔لوگ مدہوش ہو چکے تھے اور بہت سے اور مدہوش ہونے کے قریب تھے۔اس حالت میں اُنہوں نے سنا کہ کوئی شخص اعلان کر رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم