انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 254

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۵۴ دیباچهتفسیر القرآن نے صحابہؓ کے دلوں میں کتنا پختہ ایمان پیدا کر دیا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ صحابہ کی معیت میں پہاڑ کے دامن کی طرف چلے گئے اور دشمن پیچھے ہٹ گیا تو آپ نے بعض صحابہ کو اس بات پر مامور فرمایا کہ وہ میدان میں جائیں اور زخمیوں کی خبر لیں۔ایک صحابی میدان میں تلاش کرتے کرتے ایک زخمی انصاری کے پاس پہنچے۔دیکھا تو اُن کی حالت خطر ناک تھی اور وہ کی جان تو ڑ رہے تھے۔یہ صحابی اُن کے پاس پہنچے اور انہیں اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہا اُنہوں نے کانپتا ہوا ہاتھ مصافحہ کے لئے اُٹھایا اور اُن کا ہاتھ پکڑ کر کہا میں انتظار کر رہا تھا کہ کوئی ساتھی مجھے مل جائے۔اُنہوں نے اس صحابی سے پوچھا کہ آپ کی حالت تو خطر ناک معلوم ہوتی ہے کیا کوئی پیغام ہے جو آپ اپنے رشتہ دار کو دینا چاہتے ہیں؟ اُس مرنے والے صحابی نے کہا ہاں ! ہاں ! میری طرف سے میرے رشتہ داروں کو سلام کہنا اور انہیں کہنا کہ میں تو مر رہا ہوں مگر اپنے پیچھے خدا تعالیٰ کی ایک مقدس امانت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تم میں چھوڑے جا رہا ہوں۔اے میرے بھائیو اور رشتہ دارو! وہ خدا کا سچا رسول ہے میں اُمید کرتا ہوں کہ تم اس کی حفاظت ا میں اپنی جانیں دینے سے دریغ نہیں کرو گے اور میری اس وصیت کو یا درکھو گے۔۲۶۵ مرنے والے انسان کے دل میں ہزاروں پیغام اپنے رشتہ داروں کو پہنچانے کے لئے پیدا ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اتنے بے نفس ہو چکے تھے کہ نہ اُنہیں اپنے بیٹے یاد تھے ، نہ بیویاں یاد تھیں ، نہ مال یا د تھا ، نہ جائدادیں یا تھیں انہیں صرف کی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی یا درہتا تھا۔وہ جانتے تھے کہ دنیا کی نجات اس شخص کے ساتھ ہے۔ہمارے مرنے کے بعد اگر ساری اولادیں زندہ رہیں تو وہ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتیں، لیکن اگر اس نجات دہندہ کی حفاظت میں اُنہوں نے اپنی جانیں دے دیں تو گو ہمارے اپنے خاندان مٹ جائیں گے مگر دنیا زندہ ہو جائے گی۔شیطان کے پنجہ میں پھنسا ہوا انسان پھر نجات پا جائے گا اور ہمارے خاندانوں کی زندگی سے ہزاروں گنے زیادہ قیمتی بنو آدم کی زندگی اور نجات ہے۔بہر حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زخمیوں اور شہداء کو جمع کیا، زخمیوں کی مرہم پٹی کی گئی اور شہداء کے دفنانے کا انتظام کیا گیا۔اُس وقت آپ کو معلوم ہوا کہ ظالم کفار مکہ نے بعض