انوارالعلوم (جلد 20) — Page 238
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۳۸ دیباچہ تفسیر القرآن بے انصافی روک دی گئی۔عورتوں کے حقوق کو قائم کیا گیا۔شریعت کے مطابق تمام مالداروں پر مقرر کئے گئے جو غرباء پر خرچ کئے جاتے تھے اور شہر کی عام حالت کی ترقی کے لئے بھی استعمال کئے جاتے تھے۔مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کی گئی۔لا وارثوں کے لئے با قاعدہ تعلیموں کا انتظام کیا گیا۔لین دین میں تحریر اور معاہدہ کی پابندیاں مقرر کی گئیں۔غلاموں پر سختی کی کو سختی سے روکا جانے لگا۔صفائی اور حفظانِ صحت کے اصول پر زور دیا جانے لگا۔مردم شماری کی ابتدا کی گئی۔گلیوں اور سڑکوں کے چوڑا کرنے کے احکام جاری کئے گئے۔سڑکوں کی صفائی کے متعلق احکام جاری کئے گئے۔غرض عائلی اور شہری زندگی کے تمام اصول مدوّن کئے گئے اور اُن کو با قاعدگی سے جاری کرنے کے لئے تدابیر اختیار کی گئیں اور عرب پہلی دفعہ منظم اور مہذب سوسائٹی کے اصول سے روشناس ہوئے۔ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے لئے ایک ایسا قانون پیش کر رہے تھے جو نہ صرف اُس زمانہ کے لئے بلکہ ہمیشہ کیلئے اور نہ صرف اُن کے لئے بلکہ دنیا کی دوسری اقوام کیلئے بھی عزت ، شرف ، امن اور ترقی کا موجب تھا۔اُدھر مکہ کے لوگ اسلام کے خلاف با قاعدہ جنگ کی تیاریاں کرنے میں مشغول تھے جس کا نتیجہ بدر کی جنگ کی صورت میں ظاہر ہوا۔قریش کے تجارتی قافلہ ہجرت کے تیرھویں مہینے میں شام سے ایک تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرگردگی میں آ رہا تھا کہ اُس کی حفاظت کے کی آمد اور غزوہ بدر بہانہ سے مکہ والوں نے ایک زبر دست لشکر مدینہ کی طرف لے جانے کا فیصلہ کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی اطلاع مل گئی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ پر وحی ہوئی۔اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کے ظلم کا اُس کے اپنے ہتھیار کے ساتھ جواب دیا جائے۔چنانچہ آپ مدینہ کے چند ساتھیوں کو لے کر نکلے۔جب آپ مدینہ سے نکلے ہیں اُس وقت تک یہ ظاہر نہ تھا کہ آیا مقابلہ قافلہ والوں سے ہوگا یا اصل لشکر سے، اس لئے تین سو آدمی آپ کے ساتھ مدینہ سے نکلے۔یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ قافلہ سے مراد مال سے لدے ہوئے اُونٹ تھے بلکہ مکہ والے ان قافلوں کے ساتھ ایک مضبوط فوجی جتھہ بھجوایا کرتے تھے۔کیونکہ وہ اِن قافلوں کے ذریعہ سے