انوارالعلوم (جلد 20) — Page 235
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۳۵ دیباچہ تفسیر القرآن کی مرضی کے بغیر اپنے گھروں میں رکھیں۔جھگڑے اور فساد خدا اور اُس کے رسول کے پاس فیصلہ کے لئے پیش کئے جائیں گے۔مکہ والوں اور اُن کے حلیف قبائل کے ساتھ اس معاہدہ میں شامل ہونے والے کوئی معاہدہ نہیں کریں گے، کیونکہ اس معاہدہ میں شامل ہونے والے مدینہ کے دشمنوں کے خلاف اس معاہدہ کے ذریعہ سے اتفاق کر چکے ہیں۔جس طرح جنگ علیحدہ نہیں کی جاسکے گی اسی طرح صلح بھی علیحدہ نہیں کی جا سکے گی۔لیکن کسی کو مجبور نہیں کیا جائے گا کہ وہ لڑائی میں شامل ہو۔ہاں اگر کوئی شخص ظلم کا کوئی فعل کرے گا تو وہ سزا کا مستحق ہوگا۔یقینا خدا نیکوں اور دینداروں کا محافظ ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) خدا کے رسول ہیں۔۲۴۶ 66 یہ معاہدہ کا خلاصہ ہے۔اس معاہدہ میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ دیانتداری اور صفائی کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا جائے گا اور ظالم اپنے ظلم کا خود ذمہ دار ہو گا۔اس معاہدہ سے ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ یہودیوں کے ساتھ اور مدینہ کے اُن باشندوں کے ساتھ جو اسلام میں شامل نہ ہوں محبت، پیار اور ہمدردی کا سلوک کیا جائے گا اور انہیں بھائیوں کی طرح رکھا جائے گا۔پس بعد میں یہود کے ساتھ جس قدر جھگڑے پیدا ہوئے اُن کی ذمہ داری خالصہ یہود پر تھی۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ اہل مکہ کی طرف سے از سر نو شرارتوں کا آغاز دو تین مہینہ کے بعد مکہ والوں کی پریشانی جب دور ہوئی تو اُنہوں نے پھر سے اسلام کے خلاف ایک نیا محاذ قائم کیا۔چنانچہ انہی ایام میں مدینہ کے ایک رئیس سعد بن معاذ جو اوس قبیلہ کے سردار تھے بیت اللہ کا طواف کرنے کے لئے مکہ گئے تو ابو جہل نے اُن کو دیکھ کر بڑے غصہ سے کہا کیا تم لوگ یہ خیال کی کرتے ہو کہ اُس مرتد ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پناہ دینے کے بعد تم لوگ امن کے ساتھ کعبہ کا طواف کر سکو گے اور تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم اُس کی حفاظت اور امداد کی طاقت رکھتے ہو۔خدا کی قسم ! اگر اس وقت تیرے ساتھ ابو صفوان نہ ہوتا تو تو اپنے گھر والوں کے پاس بیچ کر نہ جاسکتا۔سعد بن معاذ نے کہا۔واللہ! اگر تم نے ہمیں کعبہ سے روکا تو یاد رکھو پھر تمہیں بھی