انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 205

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۰۵ دیباچہ تفسیر القرآن کی ایک آنکھ نکل گئی۔ولید اُس وقت اُس مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔عثمان کے باپ کے ساتھ اُس کی بڑی گہری دوستی تھی۔اپنے مردہ دوست کے بیٹے کی یہ حالت اُس سے دیکھی نہ گئی۔مگر مکہ کے رواج کے مطابق جب عثمان اس کی پناہ میں نہیں تھے تو وہ ان کی حمایت بھی نہیں کر سکتا تھا، اس لئے اور تو کچھ نہ کر سکا نہایت ہی دکھ کے ساتھ عثمان ہی کو مخاطب کر کے بولا ! اے میرے بھائی کے بیٹے ! خدا کی قسم تیری یہ آنکھ اس صدمہ سے بچ سکتی تھی جبکہ تو ایک زبر دست حفاظت میں تھا (یعنی میری پناہ میں تھا لیکن تو نے خود ہی اس پناہ کو چھوڑ دیا اور یہ دن دیکھا۔عثمان نے جواب میں کہا جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے میں خود اس کا خواہشمند تھا تم میری پھوٹی ہوئی آنکھ پر ماتم کر رہے ہو حالانکہ میری تندرست آنکھ اس بات کیلئے تڑپ رہی ہے کہ جو میری بہن کے ساتھ ہوا ہے وہی میرے ساتھ کیوں نہیں ہوتا۔۲۰۹ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ میرے لئے بس ہے۔اگر وہ تکلیفیں اُٹھا رہے ہیں تو میں کیوں نہ اُٹھاؤں۔میرے لئے خدا کی حمایت کافی ہے۔حضرت عمرؓ کا قبول اسلام اس زمانہ میں مکہ میں ایک اور واقعہ ظاہر ہوا جس نے مکہ میں آگ لگا دی اور یہ واقعہ اس طرح ہوا کہ عمر جو بعد میں اسلام کے دوسرے خلیفہ ہوئے اور جو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں شدید ترین دشمنوں میں سے تھے۔ایک دن بیٹھے بیٹھے اُن کے دل میں خیال آیا کہ اس وقت تک اسلام کے مٹانے کے لئے بہت کچھ کوششیں کی گئی ہیں مگر کامیابی نہیں ہوئی کیوں نہ اسلام کے بانی کو قتل کر دیا جائے اور اس فتنہ کو ہمیشہ کے لئے مٹا دیا جائے۔یہ خیال آتے ہی اُنہوں نے تلوار اُٹھائی اور گھر سے نکلے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں چل کھڑے ہوئے۔راستہ میں اُن کا کوئی دوست ملا اور اس حالت میں دیکھ کر کچھ حیران ہوا اور آپ سے سوال کیا کہ عمر ! کہاں جار ہے ہو ؟ عمرؓ نے کہا میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کرنے کے لئے جا رہا ہوں۔اُس نے کہا کیا تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کر کے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے قبیلہ سے محفوظ رہ سکو گے؟ اور ذرا اپنے گھر کی تو خبر لو تمہاری بہن اور تمہارا بہنوئی بھی مسلمان ہو چکے ہیں۔یہ خبر حضرت عمرؓ کے سر پر بجلی کی طرح گری انہوں نے سوچا میں جو اسلام کا بدترین دشمن ہوں میں جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارنے کے لئے جا رہا ہوں میری ہی بہن اور میرا ہی بہنوئی اسلام قبول کر چکے ہیں