انوارالعلوم (جلد 20) — Page 9
انوار العلوم جلد ۲۰ اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہمک تو کیا وہ شیر نہیں رہتا ؟ گودنے والے نے کہا شیر تو رہتا ہے۔کہنے لگا اچھا دُم چھوڑ دو اور دوسرا کی کام کرو۔اس نے پھر سوئی ماری تو وہ بول اُٹھا۔اب کیا کرنے لگے ہو؟ اس نے کہا اب دایاں باز و گود نے لگا ہوں۔اس آدمی نے کہا اگر شیر کا لڑائی یا مقابلہ کرتے ہوئے دایاں ہاتھ کٹ جائے تو کیا وہ شیر نہیں رہتا ؟ اس نے کہا شیر تو رہتا ہے۔کہنے لگا پھر اس کو چھوڑو اور آگے چلو۔اسی طرح وہ بایاں بازو گود نے لگا تو کہا اسے بھی رہنے دو کیا اس کے بغیر شیر نہیں رہتا ؟ پھر ٹا نگ گودنی چاہی تب بھی اس نے یہی کہا۔آخر وہ بیٹھ گیا۔اس آدمی نے پوچھا کام کیوں نہیں کرتے۔گودنے والے نے کہا اب کچھ نہیں رہ گیا۔یہی آجکل اسلام کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے۔لوگ اپنی مطلب کی چیزیں الگ کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ باقی جو کچھ ہے وہ اسلام ہے۔ہمارے نانا جان فرمایا کرتے تھے کہ چھوٹی عمر میں میری طبیعت بہت چلبلی تھی۔آپ میر درد کے نواسے تھے اور دہلی کے رہنے والے تھے۔وہاں آم بھی ہوتے ہیں۔آپ فرمایا کرتے تھے جب والد ہ والد صاحب اور بہن بھائی صبح کے وقت آم چوسنے لگتے تو میں جو آم میٹھا ہوتا اس کو کھٹا کھٹا کہہ کر الگ رکھ لیتا اور باقی آم ان کے ساتھ مل کر کھا لیتا۔جب آم ختم ہو جاتے تو میں کہتا میرا تو پیٹ نہیں بھرا۔اچھا میں یہ کھٹے آم ہی کھالیتا ہوں اور سارے آم کھا جاتا۔ایک دن کی میرے بڑے بھائی جو بعد میں میر درد کے گدی نشین ہوئے انہوں نے کہا میرا بھی پیٹ نہیں بھرا میں بھی آج کھٹے آم چوس لیتا ہوں۔فرماتے تھے میں نے بہتیرا زور لگا یا مگر وہ باز نہ آئے۔آخر انہوں نے آم چوسے اور کہا یہ آم تو بڑے میٹھے ہیں تم یونہی کہتے تھے کہ کھٹے ہیں۔جس طرح وہ آم چوستے وقت میٹھے آم الگ کر لیتے تھے اور باقی دوسروں کے ساتھ مل کر چوس لیتے تھے اور کی بعد میں کھٹے کھٹے کہہ کر وہ بھی چوس لیتے تھے یہی حال آجکل کے مسلمانوں کا ہے۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ شریعت اسلامیہ کو نافذ کیا جائے ان کا اگر یہ حال ہو تو ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو اسلام کو جانتے ہی نہیں۔وہ تو پھر ہڈیاں اور بوٹی کچھ بھی نہیں چھوڑیں گے۔یہی وجہ ہے کہ عیسائیوں نے یہ لکھ لکھ کر کتابیں سیاہ کر ڈالی ہیں کہ اسلام کی تعلیم پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔وہ کہتے ہیں کہ یہ کیا مصیبت ہے کہ انسان پورا ایک مہینہ روزے رکھتا جائے۔اگر ی