انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 179

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۷۹ دیباچہ تفسیر القرآن کی محبت میں رخنہ پڑ جانے کا احتمال ہمیشہ رہتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تو ایک کھلی کتاب تھی۔دشمن کے اعتراضات حل ہونے کے بعد کوئی ایسا کو نہ نہیں رہتا جس پر سے مڑنے کے بعد آپ کی زندگی کے متعلق ایک نیا زاویہ نگاہ ہمارے سامنے آ سکتا ہو۔نہ کوئی تہہ ایسی باقی رہتی ہے جس کے کھولنے کے بعد کسی اور قسم کی حقیقت ہم پر ظاہر ہوتی ہو۔یہ امر ظاہر ہے کہ ایسے انسان کی زندگی کے حالات قرآن کریم کے دیباچہ میں ضمنی طور پر مختصراً بھی نہیں بیان کی کئے جا سکتے۔صرف اُن کی طرف ایک خفیف سا اشارہ کیا جا سکتا ہے۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ خفیف اشارہ بھی اس سے بہتر رہے گا کہ میں اس مضمون کو ہی ترک کردوں کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے آسمانی کتب کو صحیح معنوں میں لوگوں کے دماغوں میں راسخ کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اُس کے ساتھ اعلیٰ نمونہ بھی ہوا اور سب سے اعلیٰ نمونہ وہی ہوسکتا ہے جس پر وہ کتاب نازل ہوئی ہو۔یہ نقطہ باریک اور فلسفیانہ ہے اور بہت سے مذاہب نے تو اس کی حقیقت کو سمجھا ہی نہیں۔چنانچہ ہندو مذہب ویدوں کو پیش کرتا ہے مگر ویدوں کے لانے والے رشیوں اور منیوں کی تاریخ کے متعلق بالکل خاموش ہے۔ہندو مذہب کے علماء اس کی ضرورت کو آج تک بھی نہیں سمجھ سکے۔اسی طرح عیسائی اور یہودی علماء اور پادری بڑی بیبا کی سے کہہ دیتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے فلاں نبی میں فلاں نقص تھا اور فلاں نبی میں فلاں نقص تھا۔وہ یہ بات نہیں سمجھ سکتے کہ جس شخص کو خدا تعالیٰ نے اپنے کلام کے لئے چنا جب وہ کلام اُس کی اصلاح نہیں کر سکا تو کسی دوسرے کی اصلاح کیا کرے گا اور اگر وہ شخص ایسا ہی نا قابل اصلاح تھا تو خدا تعالیٰ نے اُسے چنا کیوں؟ کیا وجہ ہے کہ کسی اور کو نہیں چن لیا ؟ آخر خدا تعالیٰ کے لئے کیا مجبوری تھی کہ وہ زبور کے لئے داؤد کو چنتا۔وہ بنی اسرائیل میں سے کسی اور انسان کا انتخاب کر سکتا تھا۔پس یہ دونوں باتیں غیر معقول ہیں۔یہ خیال کر لینا کہ خدا تعالیٰ نے جس پر کلام نازل کیا وہ کلام اُس کی جی اصلاح نہیں کر سکا یا یہ خیال کر لینا کہ خدا تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کو چن لیا جو نا قابل اصلاح تھا یہ دونوں باتیں عقل کے بالکل خلاف ہیں۔مگر بہر حال مختلف مذاہب میں اپنے منبع سے دوری کی وجہ سے اس قسم کے غلط خیالات پیدا ہو گئے ہیں۔یا یوں کہو کہ انسانی دماغ کی ترقی کے کامل نہ ہونے کے سبب سے پرانے زمانہ میں ان چیزوں کی اہمیت کو سمجھا ہی نہیں گیا۔مگر اسلام میں۔